کتاب: ارکان اسلام و ایمان - صفحہ 225
( نمازوں کی پابندی کیجیے : بہت سے روزے دار ایسے ہیں،جو نماز پڑھنے سے غفلت برتتے ہیں،حالانکہ نماز دین کا ستون ہے جسے چھوڑنا کفر ہے۔
( اخلاق حسنہ اپنائیے : کفر کی باتیں نہ کریں۔ دینی شعائر کا احترام کریں۔ استہزا سے باز رہیں۔ کسی کو بُرا بھلا کہنے سے اجتناب کریں،لوگوں سے حسن اخلاق سے پیش آئیں،کیونکہ روزہ برا اخلاق نہیں سکھلاتا،بلکہ نفس کی اصلاح کرتا ہے اور کفر مسلمان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔
( ہنسی مذاق میں بھی بے ہودگی سے اجتناب کیجیے : بے ہودہ مذاق،لغویات اور ناشائستہ کلام سے روزہ ضائع ہو جاتا ہے۔ اس کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلا يَرْفُثْ وَلا يَصْخَبْ فَإِنْ شَاتَمَهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ))
’’جس دن تم میں سے کوئی روزے کی حالت میں ہو،تو وہ گالی گلوچ اور بے ہودہ باتیں نہ کرے۔ اگر کوئی اس کو گالیاں دے یا اس سے جھگڑا کرے تو یہ کہہ دے کہ میں تو روزے دار ہوں۔‘‘[1]
( سگریٹ چھوڑنے کی کوشش کیجیے : روزے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سگریٹ چھوڑنے کی کوشش کیجیے کیونکہ سگریٹ نوشی کینسر اور السر جیسی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔ اپنے آپ کو صاحب عزم و ہمت انسان بنائیے،اپنی صحت اور مال کی حفاظت کرتے ہوئے افطاری کے بعد بھی سگریٹ نوشی سے اُسی طرح باز رہیے جیسے روزے کی حالت میں تھے۔
[1] صحیح البخاری،الصوم،باب ھل یقول : إنی صائم،إذا شتم ،حدیث: 1904 وصحیح مسلم،الصیام،باب فضل الصیام،حدیث: 1151 و سنن النسائی،الصیام،باب ذکر الاختلاف علٰی أبي صالح…،حدیث: 2219 واللفظ لہ