کتاب: ارکان اسلام و ایمان - صفحہ 224
سے قضا ہے نہ کفارہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ،فَأَكَلَ أَوْ شَرِبَ،فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ،فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللّٰهُ وَسَقَاهُ))
’’جس نے روزے کی حالت میں بھول کر کھا لیا یا پی لیا،تو اسے چاہیے کہ وہ روزہ پورا کر لے (اسے توڑے نہیں) اس لیے کہ اسے تو اللہ تعالیٰ نے کھلایا اور پلایا ہے۔‘‘[1]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((إِنَّ اللّٰهَ وَضَعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ))
’’اللہ تعالیٰ نے میری امت سے غلطی،بھول اور وہ سب کچھ معاف کر دیا ہے جس پر وہ مجبور کیے جائیں۔‘‘[2]
( خودبخود قے آنا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((مَنْ ذَرَعَهُ قَيْءٌ وَهُوَ صَائِمٌ, فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ))
’’جس کو روزہ کی حالت میں خودبخود قے آگئی (اس کا روزہ برقرار ہے) اس پر کوئی قضا نہیں۔‘‘[3]
ماہ رمضان میں آپ کے فرائض
آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر روزے اپنی عبادت کے لیے فرض کیے ہیں،انھیں مقبول و مفید بنانے کے لیے درج ذیل اعمال کو اپنانا مفید ہوگا:
[1] صحیح مسلم،الصیام،باب أکل الناسی وشربہ و جماعہ لا یفطر،حدیث:1155
[2] سنن ابن ماجہ،الطلاق،باب طلاق المکرہ والناسی ،حدیث: 2045
[3] سنن أبی داود،الصیام،باب الصائم یستقی ء عامدا،حدیث: 2380