کتاب: ارکان اسلام و ایمان - صفحہ 221
سحری و افطاری کے آداب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ تَمْرًا فَالْمَاءُ فَإِنَّهُ طَهُورٌ))
’’جب تم میں سے کوئی روزہ افطار کرے تو کھجور سے کرے،کیونکہ یہ بابرکت چیز ہے،اور اگر کھجور نہ ملے تو پھر پاکیزہ پانی ہی کافی ہے۔‘‘[1]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افطاری کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے:
((ذَهبَ الظَّمأُ،وابتلَّتِ العروقُ،وثبتَ الأجرُ إن شاءَ اللّٰهُ))
’’پیاس دور ہو گئی،رگیں تر ہو گئیں اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو روزے کا اجر و ثواب ثابت ہوگیا۔‘‘[2]
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ))
’’لوگ اس وقت تک ہمیشہ بہتری اور بھلائی میں رہیں گے جب تک افطاری میں جلدی کرتے رہیں گے۔‘‘[3] (سورج غروب ہوتے ہی روزہ افطار کر لیں گے۔)
[1] جامع الترمذی،الزکاۃ،باب ماجاء فی الصدقۃ علی ذی القرابۃ،حدیث :658 و سنن ابن ماجہ،الصیام،باب ماجاء علی ما یستحب الفطر،حدیث : 1699
[2] سنن أبی داود،الصیام،باب القول عند الإفطار،حدیث : 2358,2357
[3] صحیح البخاری،الصوم،باب تعجیل الإفطار،حدیث :1957 وصحیح مسلم،الصیام، باب فضل السحور… ،حدیث : 1098