کتاب: ارکان اسلام و ایمان - صفحہ 215
((لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلَا فَرَسِهِ صَدَقَةٌ)) ’’مسلمان پر اس کے (خدمت گار) غلام اور اس (کی سواری) کے گھوڑے پر زکاۃ واجب نہیں ہے۔‘‘[1] لیکن جیسا کہ پہلے بتایا گیا کہ سونے اور چاندی کے زیورات اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ ( کرائے پر دیے جانے والے مکان اور گاڑیوں کے کرائے کی رقم پر اگر سال گزر چکا ہو تو اس کی بھی زکاۃ ادا کرنی چاہیے،چاہے وہ رقم بجائے خود اتنی ہو کہ زکاۃ کے نصاب کو پہنچ جائے یا دوسرا مال ملانے سے پہنچے۔
[1] صحیح البخاری،الزکاۃ،باب علی المسلم فی فرسہ صدقۃ ،حدیث: 1463 و صحیح مسلم،الزکاۃ،باب لا زکاۃ علی المسلم فی عبدہ و فرسہ ،حدیث: 982