کتاب: ارکان اسلام و ایمان - صفحہ 184
اس کے آگے سے گزرنے والا متنبہ ہو جائے۔ سترہ دیوار اور ستون وغیرہ بھی ہو سکتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اس کا بہت اہتمام کرتے تھے۔ اور نمازی کو چاہیے کہ وہ اپنے سامنے سترہ رکھ لیا کرے تاکہ گزرنے والا متنبہ ہو جائے اور آگے سے گزرنے سے رک جائے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ((إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى الشَّيْءِ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعْ فِي نَحْرِهِ فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ)) ’’جب تم میں سے کوئی شخص کسی چیز کو لوگوں سے سترہ بنا کر نماز پڑھے،پھر کوئی اس کے سامنے سے گزرنے کی کوشش کرے تو اسے روکے اور پیچھے ہٹا دے اگر وہ پھر بھی باز نہ آئے تو اسے سختی سے روکے کیونکہ وہ شیطان ہے۔‘‘[1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ)) ’’اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کو یہ معلوم ہو جائے کہ اس پر کس قدر گناہ ہے تو اس کے لیے چالیس تک کھڑا ہونا (انتظار کرنا) نمازی کے آگے گزرنے سے بہتر ہے۔‘‘[2] ابونضر کہتے ہیں،مجھے معلوم نہیں چالیس دن کہے یا مہینے یا سال۔ مسند بزار کی روایت میں ہے ’’چالیس سال‘‘(تک کھڑا رہنا نمازی کے سامنے گزرنے سے بہتر ہے۔)[3]
[1] صحیح البخاری،الصلاۃ،باب یرد المصلی من مر بین یدیہ ،حدیث : 509 وصحیح مسلم،الصلاۃ،باب منع الماربین یدی المصلی ،حدیث : 505 [2] صحیح البخاری،الصلاۃ،باب إثم المارّبین یدی المصلی،حدیث : 510 [3] مسند بزار،حدیث: 3782 حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔