کتاب: عقیدہ و آداب کی کتاب الشرح والابانہ - صفحہ 99
الحجۃ فی بیان لمحبۃ: ۲؍ ۳۰۔ ان پر ایمان رکھنا حق اور لازم ہے، جو کہ مخلوق پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض ہے، پس جو کوئی اس کے خلاف کرے یا اس عقیدہ سے رو گردانی کرے یا اس پر طعن کرے، اور اللہ تعالیٰ کے لیے تقدیر کو ثابت نہ مانے۔ یا اس میں کسی چیز کا ضافہ کرے، یا اضافہ کر کے کوئی چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے منسوب کرے، تو وہ اول درجہ کا زندیق ہے، اسی لیے کہ روایات میں آیا ہے کہ زندیقیت کی ابتداء قدر میں ابو جاد کے کلام سے ہوتی ہے۔‘‘ 1 الإبانۃ: ۱۸۱۲۔ للالکائی: ۱۳۱۴، نے ذکر کیا ہے کہ امام زہری فرماتے ہیں : زندیقیت کا باغ تقدیر ہے۔ جو اس میں داخل ہوا وہ بھٹک گیا۔ الإبانۃ: ۱۹۶۸ میں ہے: داؤد بن ابو ہند کہتے ہیں ، زنداقہ کا عقیدہ تقدیر سے نکلا ہے، اور لوگوں میں سب سے جلدی مرتد ہونے والا یہی گروہ ہے۔ ۲۵۵۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’قدریہ اور مرجیہ پر ستر انبیاء کی زبانی لعنت کی گئی ہے، اور ان میں سے آخری نبی میں ہوں ۔‘‘ 1 الإبانۃ: ۱۲۲۷۔ الشریعۃ: ۳۰۸۔ الأوسط للطبراني: ۷۱۶۲۔ للالکائی: ۱۸۰۲۔ السنۃ للمحرب: ۱۸۹۔ مجمع الزوائد: ۷؍ ۲۰۵۔ ۲۵۶۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر انسان پر زنا سے اس کا حصہ لکھ دیا ہے۔ 1 البخاری: ۶۲۴۳۔ مسلم: ۶۸۴۷۔ ۲۵۷۔ پھر اس کے بعد عذاب قبر اور منکر و منکیر پر ایمان لانا ہے۔ 1 ترمذی: ۱۰۷۱۔ پوری حدیث لگائیں ، ملکان اسودان.....الخ، صحیح إبن حبان: ۳۱۱۷، حسن، غریب۔ احمد بن القاسم کہتے ہیں : میں نے احمد بن حنبل سے پوچھا کیا آپ منکر و نکیر اور عذاب قبر کی روایات کو مانتے ہیں ؟ فرمایا: سبحان اللہ، ہم ان کو مانتے ہیں اور یہ ہمارا عقیدہ ہے۔ میں نے پوچھا کیا آپ بھی ایسے ہی منکر و نکیر کہتے ہیں یا دو فرشتے کہتے ہیں ؟ فرمایا: ہم کہتے ہیں