کتاب: عقیدہ و آداب کی کتاب الشرح والابانہ - صفحہ 91
سے پوچھو وہ جنتی ہے یا جہنمی؟ اس سے جب پوچھا گیا تو کہنے لگا: واللہ اعلم۔ حضرت ابن مسعود نے اس سے کہا: جس طرح آپ معاملہ اللہ کے سپرد کیا، پہلے بھی اسے ہی کیوں نہ کر دیا۔‘‘ 1 الرد علی المبدعۃ: ۲۵۲۔ ٭ آپ کے بعد علماء نے اسی قول کو لیا ہے۔ جیسا کہ علقمہ، اسود ابو وائل، مسروق، منصور، مغیرہ، ابراہیم مفضل، معاذ بن معاذ سفیان بن حبیب، سفیان الثوری، ابن المبارک، اور فضیل بن عیاض کے علاوہ لوگوں کی اتنی بڑی جماعت ہے جن کا ذکر یہاں طوالت اختیار کر جائے گا۔ یہ استثناء یقین پر مبنی ہوتا ہے، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے۔ 1 الفتح: ۲۷۔ ان علماء کے تفصیل اقوال سند کے ساتھ ابن بطہ نے الإبانۃ الکبری: ۲؍ ۲۶۹۔ پر ذکر کیے ہیں ۔ الشریعۃ: ۲؍ ۶۶۷۔ ۲۴۶۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں اُمید کرتا ہوں کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں ۔‘‘ 1 مسند أبو یعلی: ۴۴۲۷۔ مسلم: ۲۵۶۲۔ ۲۴۷۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بقیع سے گزرتے ہوئے فرمایا: ((وإنّا إن شاء اللّٰہ بکم لاحقون۔))’’اور بے شک ہم اگر اللہ نے چاہا تو آپ سے ملنے والے ہیں ۔‘‘ 1 إبن بطۃ في الکبری: ۱۱۸۴۔ مسلم: ۲۲۱۵۔ امام احمد فرماتے ہیں کہ: ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم یقین حاصل تھا کہ ان سے ملنا ہے، مگر پھر بھی آپ نے استثناء فرمایا۔‘‘ 1 طبقات الحنابلۃ: ۲؍ ۱۸۱۔ ٭ یہ تمام استثناء یقین پر مبنی ہے۔ لیکن ہر استثناء کرنے والے پر استثناء کی کیفیت کا جاننا واجب ہوتا ہے، اور یہ کہ وقوع استثناء کا سبب کیا ہے؟ تاکہ مخالف یہ گمان نہ کرے کہ یہ استثناء شک کی وجہ سے ہے۔‘‘ 1 الإبانۃ الکبری: ۲؍ ۲۷۰۔