کتاب: عقیدہ و آداب کی کتاب الشرح والابانہ - صفحہ 82
کا کام تھا۔‘‘ 1 تاریخ ابن معین روایۃ الدوری: ۱۱۶۲۔ للالکائی: ۲۸۰۴۔ الشریعۃ: ۱۸۶۱۔ ۲۳۰۔ جابر بن رفاعہ کہتے ہیں : میں نے جعفر بن محمد سے حضرت ابو بکر الصدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے بارے میں پوچھا: تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب نہ کرے اگر میں اُن کی محبت اور ان کے لیے دعا سے اللہ تعالیٰ کی قربت نہ حاصل کرتا ہوں ۔‘‘ 1 فضائل الصحابہ لأحمد: ۱۷۶۔ السنۃ لعبداللّٰہ: ۱۲۸۱۔ للالکائی: ۲۴۶۶۔ ۲۳۱۔ حسن بن صالح کہتے ہیں : میں نے جعفر بن محمد سے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں پوچھا: تو آپ نے فرمایا: میں اُن تمام سے برأت کا اظہار کرتا ہوں جو خیر کے علاوہ انہیں یاد کرتے ہیں ۔‘‘ میں نے کہا: شاید آپ تقیہ کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا: پھر تو میں مشرکین میں سے ہوا۔ مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب نہ ہو، اگر میں ان کی محبت سے اللہ کی قربت نہ اختیار کرتا ہوں ، لیکن یہ لوگ ہماری وجہ سے لوگوں کو کھا رہے ہیں ۔‘‘ 1 عبداللّٰہ فی السنۃ: ۱۲۸۰۔ ۲۳۲۔ ابو خالد الاحمر کہتے ہیں : ’’میں نے عبداللہ بن حسن بن حسن سے حضرت ابو بکر اور حصرت عمر رضی اللہ عنہما کے متعلق پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ان دونوں کے لیے دعا کرو، اور جو ان کے لیے دعا نہیں کرتا، اس کی نماز جنازہ نہ پڑھو، اور ہم کل اُن لوگوں سے اعلان برأت کر دیں گے جو آج ہمیں تر نوالہ بنا رہے ہیں ۔‘‘ 1 فضائل الصحابہ للدار القطینی: ۵۹۔ النہی عن سب الأصحاب للمقدسي: ۲۵۔ ۲۳۳۔ محمد بن علی بن حسین کہتے ہیں : ’’جس نے ہمیں ابو بکر و عمر پر فضیلت دی، وہ ہمارے دادا کی سنت سے بری ٹھہرا، اور کل اللہ کے ہاں ہم اس کے ساتھ جھگڑا کرنے والے ہوں گے۔‘‘ 1 الصواعق المحرقۃ علی أہل الرفض والضلال والزندقۃ: ۲؍ ۷۰۶۔ وعند للالکائی: ۲۸۱۲۔