کتاب: عقیدہ و آداب کی کتاب الشرح والابانہ - صفحہ 74
بہت سخت سزا دی جائے گی۔‘‘ ۱۹۸۔ ابو بکر بن عیاض فرماتے ہیں : ’’میں نہ ہی رافضی کا نماز جنازہ پڑھتا ہوں اور نہ ہی حروری (خارجی)کا۔ اس لیے رافضی حضرت عمر کو کافر کہتا ہے اور مروی حضرت علی کو۔‘‘ (المغنی لإبن قدامۃ: ۲؍ ۲۱۹)فرماتے ہیں امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں : ’’جہمی اور رافضی کا نما زجنازہ نہ پڑھو، ان کے علاوہ جس کا مرضی ہے جنازہ پڑھ لو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کم جرائم جیسے، قرض دار، خائن اور خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔‘‘ ابن بطہ الإبانۃ الکبری: ۲؍ ۳۵۲ پر فرماتے ہیں : حضرت ابو بکر و عمر اور عثمان و علی کی خلافت یا ان کی بعیت کرنے والے کے قول سے لازم آتا ہے کہ وہ کہنا چاہتا ہے کہ: اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی تعریف ایسی چیز پر کی ہے، جس کی عاقبت کا اسے علم نہیں تھا، اور اس نے ان سے اچھے انجام کا وعدہ کیا۔ اسے علم نہیں تھا کہ وعدہ توڑیں گے اور ظلم کرتے ہوئے کافر ہو جائیں گے، اور بے شک اس نے ان کے دلوں میں کفر ہونے کی وجہ سے دلوں سے سکینہ اٹھا لیا تھا.....الخ۔‘‘ ۱۹۹۔ حضرت طلحہ بن مصرف فرماتے ہیں : ’’رافضیوں کی عورتوں سے نکاح نہ کیا جائے، اور نہ ہی اُن کا ذبیحہ کھایا جائے۔ اس لیے کہ یہ لوگ مرتد ہیں۔‘‘1 للالکائی: ۲۸۱۷۔ احمد بن یونس کہتے ہیں : ’’میں رافضی کے ہاتھ کا ذبیحہ نہیں کھاتا، اس لیے کہ وہ میرے نزدیک مرتد ہیں ۔‘‘ ۲۰۰۔ حضرت حسن سے کہا گیا: فلاں آدمی نے کسی بدعتی کو غسل دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے بتا دو، اگر وہ مر گیا تو ہم اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھیں گے۔‘‘ 1 الإبانۃ: ۵۰۳۔