کتاب: عقیدہ و آداب کی کتاب الشرح والابانہ - صفحہ 70
۱۸۰۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’جب لوگ برائی میں مبتلا ہو جائیں ، تو کہہ دیجئے کہ برائی میں میرے لیے کوئی اسوۃ نہیں ہے۔ انسان کو چاہیے کہ اپنے نفس کو اطمینان دلائے کہ اگر سارے لوگ بھی کافر ہو جائیں تو تب بھی وہ کافر نہیں ہوگا۔‘‘ 1 المعجم الکبیر: ۸۷۶۵۔ الحلیۃ: ۱؍ ۱۳۷۔ ۱۸۱۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سوید بن غفلہ سے فرمایا: شاید کہ تم میرے بعد زندہ رہو۔ پس امام وقت کی اطاعت کر، اگر وہ ناک کٹا غلام ہی کیوں نہ ہو، اور اگر وہ تم پر ظلم کرے تو صبر کرو۔ اگر تمہیں محروم رکھے تو صبر کرو، اور اگر وہ تمہارے ساتھ کوئی ایسا معاملہ کرنا چاہیے جس سے تمہارے دین کو ختم ہونے کا خطرہ ہو، تو کہہ دو: میرا خون میرے دین کی حفاظت کے لیے حاضر ہے۔‘‘ 1 إبن أبی شیبۃ: ۱۲؍ ۵۴۴۔ السنۃ للخلال: ۵۴۔ الشریعۃ: ۷۰، ۷۱۔ یہ روایت صحیح ہے۔ مسلم میں بھی اسی طرح کی ایک روایت (۴۷۸۳)موجود ہے جس میں ہے.....الخ۔ ۱۸۲۔ مطرف بن عبداللہ کہتے ہیں : ’’جو کوئی مال کی خاطر اپنا دین قربان کر دے، اللہ تعالیٰ فقر و فاقہ کو اس پر مسلط کر دیتے ہیں ، اور اسے بروز قیامت اُن لوگوں کے ساتھ اٹھائیں جو جھنڈا اٹھائے ابلیس کے آگے آگے جہنم کی طرف جا رہے ہوں گے۔‘‘ ۱۸۳۔ فضیل بن عیاض فرماتے ہیں : ’’اسلام کی سب سے مضبوط کڑی اللہ تعالیٰ کے لیے محبت اور اسی کے لیے بغض و نفرت ہے۔‘‘ 1 الإیمان؍ لابن أبی شیبۃ: ۱۱۱۔ أحمد: ۲۱۳۰۳۔ أبو داؤد: ۴۶۰۱۔ الحلیۃ: ۷؍ ۳۴۔ جامع العلوم والحکم: ۲؍ ۲۶۶۔ ۱۸۴۔ فضیل بن عیاض فرماتے ہیں : ’’کوئی بھی بدعتی ہو تو اپنے دین پر امین مت بتاؤ، اور اپنے معاملات میں اس سے مشورہ نہ لو۔ اس کے پاس نہ بیٹھو۔ بے شک جو کوئی بدعتی کے ساتھ بیٹھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر اندھا پن مسلط کر دیتے ہیں ۔‘‘ 1 الإبانۃ: ۴۴۲۔ لالکائی: ۲۶۴۔ الرد علی المبتدعۃ لابن النباء: ۳۷۔ ۱۸۵۔ فضیل بن عیاض فرماتے ہیں : ’’مومن کا مومن کو دیکھنا دل کو جلا بخشتا ہے، اور کسی انسان