کتاب: عقیدہ و آداب کی کتاب الشرح والابانہ - صفحہ 68
اُن سے صبر چھین لیا جائے گا اور صبر پر اُن کو کوئی اجر نہیں ملے گا۔‘‘ ۱۷۳۔ یونس بن عبید کہتے ہیں : جب حاکم سنت کی مخالفت کرے، اور یہ رعایا یہ کہے کہ: ہمیں تو ان کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے، تو اس وقت اللہ تعالیٰ اُن کے دلوں میں شک ڈال دیں گے، اور انہیں ایک دوسرے پر طعنہ زنی وراثت میں ملے گی۔‘‘ ۱۷۴۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: دین المرء علی دین.....الخ۔ 1 الإبانۃ: ۳۵۹۔ أحمد: ۸۰۲۸۔ ابو داؤد: ۴۸۳۳۔ الترمذی: ۲۳۷۸۔ صححہ الحاکم۔ ۱۷۵۔ حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام کا فرمان ہے: ’’کسی انسان پر کسی چیز کا حکم مت لگاؤ۔ حتیٰ کہ دیکھ لو کہ اس کی دوستی کس کے ساتھ ہے۔‘‘ 1 الإبانۃ: ۴۶۵۔ ۱۷۶۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی: اے موسیٰ1۔ بیدار رہنا، اور اپنے نفس کے لیے بھائی تلاش کرو، اور ہر وہ دوست جو میری خوشی پر تیری پاس نہ آئے، اس سے بچ کر رہنا۔ اس لیے کہ وہ تیرا دشمن ہے، اور میں اس سے بری ہوں ۔‘‘ 1 الإبانۃ: ۳۶۶۔ الشکر، لإبیہ أبی دنیا: ۱۶۴۔ ۱۷۷۔ ابن مبارک کا فرمان ہے: ’’جس کی بدعت ہم پر مخفی رہے، اس کی الفت ہم پر مخفی نہیں رہ سکتی۔‘‘ 1 الإبانۃ: ۴۲۵۔ للالکائی: ۲۵۷۔ الأخوان: ۴۰۔ محمد بن عبیداللہ الصلابی کہتے ہیں یہ کہا جاتا تھا کہ: ’’اہل بدعت ہر چیز کو چھا سکتے ہیں سوائے الفت اور صحبت کے۔‘‘ یحییٰ القطان کہتے ہیں ، 1 جب سفیان ثوری بصرہ تشریف لائے تو ربیع رابند صبیح کی طرف دیکھنے لگے کہ لوگوں کے ہاں اس کا کیا مقام ہے۔ پھر پوچھا: اس کی کیا وجہ ہے؟ تو کہا گیا: وہ اہل سنت کے مذہب پر ہے۔ (اس لیے لوگ اس کی قدر کرتے ہیں )۔ آپ نے پھر پوچھا: اس کے ساتھی کون لوگ ہیں ؟ کہا گیا: اہل قدر ہیں ۔ تو فرمایا: پھر وہ بھی قدری ہے۔‘‘ ابن بطہ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں : ثوری نے بڑی حکمت کی بات کہی ہے، اور سچ بولا