کتاب: عقیدہ و آداب کی کتاب الشرح والابانہ - صفحہ 6
ابن بطہ رحمہ اللہ نے اس کتاب کی تالیف کا سبب بیان کیا ہے۔ انہوں نے جب اپنے دور میں دیکھا کہ لوگ سنت سے دور ہو رہے ہیں اس سے تعلق ختم ہو رہا ہے، بدعت رواج پکڑ رہی ہیں اور انہیں اچھا سمجھا جانے لگا ہے، اور جہلاء نے جاہل اور گمراہ لوگوں کو دین کے سر کردہ اور امام تسلیم کر لیا ہے، تو اس امر نے انہیں مجبور کیا کہ سنتوں کے بیان اور وضاحت کے لیے ایک کتاب تحریر کریں جس سنت سے مضبوط وابستگی کی اہمیت بیان ہو، اور سلف امت اور علمائے حدیث کا منہج اور عمل بیان کیا جائے، اور بدعات اور گمراہ کن آراء و افکار سے خبردار کیا جائے۔ مصنف نے اس کتاب کو چار اقسار میں تقسیم کیا ہے: پہلي قسم:.....اس میں وہ احادیث نبویہ اور آثار سلف امت لائے ہیں جن میں لزوم جماعت کا حکم دیا گیا ہے، اور گمراہ لوگوں اور تفرقہ بازوں سے دور رہنے کی تعلیمات وارد ہوئی ہیں ۔ دوسري قسم:.....اس میں اہل سنت والجماعت کا عقیدہ اور وہ متفق علیہ مسائل بیان ہوئے ہیں جن سے لا علم رہنا مسلمان کر زیبا نہیں اور نہ ہی ان سے جہالت پر اللہ کے ہاں کوئی عذر مقبول ہوگا۔ تیسري قسم:.....اس میں بہت ساری ایسی سنتیں ، واجبات، اخلاقیات اعمال و آداب کیے گئے، جن کی ضرورت بہت کثرت کے ساتھ پیش آتی ہیں ۔ انہیں مختلف فقہی ابواب کے حساب سے تحریر کیا گیا ہے۔ اس قسم میں بہت سارے ایسے امتیازی مسائل بیان کیے ہیں جن میں اہل سنت والجماعت دیگر اہل بدعت اور گمراہ فرقوں سے جدا گانہ حیثیت اور پہچان رکھتے ہیں ۔ جیسا کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے: ’’اہل سنت والجماعت کے عقیدہ کے مطابق عقائد کے مختصر مسائل تحریر کرنے والے علماء کی یہ شان رہی ہے کہ وہ اہل سنت کے وہ امتیازی مسائل بیان کرتے ہیں کہ جن میں وہ کفار اور اہل بدعت سے جدا ہیں ۔‘‘ [1] چوتھي قسم:.....اس میں بہت ساری اُن بدعات کا بیان ہے جو اس وقت کے [1] العقیدۃ الصفہانیۃ: ۳۱۔