کتاب: عقیدہ و آداب کی کتاب الشرح والابانہ - صفحہ 54
ان کے درمیان قیامت کے دن تک دشمنی اور کینہ وری بھڑکا دی اور عنقریب اللہ انھیں اس کی خبر دے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ فرمایا: میں اس اُمت میں دھوکہ بازی نہیں دیکھا، مگر اس کا سبب متفرق اہواء (بدعات)اور آپس میں دشمنی اور بغض ہے۔ ۱۲۴۔ حضرت معاویہ بن قرۃ فرماتے ہیں : ’’دین میں جھگڑا کرنا اعمال کو مٹا دیتا ہے۔‘‘ 1 الإبانۃ: ۵۶۷۔ ۵۶۹۔ الشریعۃ: ۱۲۱۔ اللالکائی: ۲۲۱۔ ۱۲۵۔ یوسف بن اسباط فرماتے ہیں : ’’بدعتی کو دیکھانا دل سے نورِ حق کو مٹا دیتا ہے۔‘‘ 1 الحلیۃ: ۸؍ ۲۲۔ ابراہیم بن ادھم فرماتے ہیں : کثرت کے ساتھ باطل کو دیکھنے سے دل سے معرفت حق ختم ہو جاتی ہے۔ ۱۲۶۔ بشر بن الحارث فرماتے ہیں : ’’جب تمہارا راستہ بدعتی کے ہاں سے گزر کر جاتا ہو، تو اس تک پہنچنے سے قبل اپنی نظریں جھکا لیجئے۔‘‘ 1 ذم الکلام: ۱۰۹۸۔ عبدالوہاب الورّاق کہتے ہیں : ’’ایک آدمی نے اسود بن سالم سے پوچھا: آج صبح کیسے ہوئی؟‘‘ فرمایا: بہت بری، آج میری نظر ایک بدعتی پر پڑ گئی۔‘‘ 1 تاریخ بغداد: ۷؍ ۳۶۔ ان آثار میں بدعتی کی طرف دیکھنے سے اس قدر ڈرایا گیا ہے تو پھر ان کی مجلس میں بیٹھنے اور ان کی بات سننے کے متعلق آپ کیا کہہ سکتے ہیں ؟ پس ہوشیار ہیں ، اور اہل بدعت سے بچ کر رہیں ، اور ان سے ایسے دور رہیں جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درجال دے دور رہنے کا حکم دیا ہے۔ فرمایا: ’’تم میں سے جو وکئی خروج دجال کا سنے تو وہ جتنا ہو سکے اس سے دور رہے، پس بے شک کوئی آدمی اس کے پاس آئے گا اور وہ خود کو مومن خیال کرتا ہوگا، مگر وہ اس وقت تک اس کے ساتھ رہے گا، حتیٰ کہ شبہات کی کثرت دیکھ کر اس کا پیر و کار بن جائے۔‘‘