کتاب: عقیدہ و آداب کی کتاب الشرح والابانہ - صفحہ 52
﴿وَ مِنْہُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ﴾ (التوبۃ: ۶۱) ’’اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو نبی کو ایذا دیتے ہیں ۔‘‘ ان کے اقوال مختلف ہیں ، مگر شک اور تکذیب پر سب کا اجماع ہے، اور یہ تمام اختلاف عقائد کے باوجود تلوار پر جمع ہیں ، اور میں ان کا ٹھکانا صرف جہنم میں دیکھتا ہوں ۔ 1 الدارمی: ۱۰۱۔ القدر: ۳۶۷۵۔ ذم الکلام: ۸۳۹۔ ۱۱۹۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو جماعت سے ایک بالشت پھر ھی جدا ہوا، اس نے اپنی گردن سے اسلام کا طوق اتار پھینکا۔‘‘ 1 جماعت سے جدا ہونے سے مراد سنت ترک کرنا اور بدعت کا ارتکاب کرنا ہے۔ أحمد: ۲۱۵۶۱۔ ابو داؤد: ۴۷۶۰۔ ۱۲۰۔ محمد بن حنفیہ کہتے ہیں : ’’قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، حتیٰ کہ لوگ اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کریں گے۔‘‘ 1 الإبانۃ الکبری: ۶۲۲۔ للالکائی: ۲۱۳۔ ذم الکلام: ۶۱۷۔ ۱۲۱۔ عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں : ’’قریب ہے کہ وہ شیاطین ظاہر ہوں جنہیں حضڑت سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے باندھ رکھا تھا، اور وہ لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کریں ۔‘‘ 1 مصنف عبدالرزاق: ۲۰۸۰۷۔ الدارمی: ۴۴۲۔ مقدمۃ۔ صحیح مسلم میں یہ الفاظ ہیں اور بے شک مسند میں وہ شیاطین قید ہیں جنہیں سلیمان علیہ السلام نے باندھا تھا۔ قریب ہے کہ وہ نکل پڑیں ، اور لوگوں کو قران پڑھ کر سنائیں (اور گمراہ کریں )۔ ۱۲۲۔ ایوب سختیانی فرماتے ہیں مجھ سے ابو قلابہ نے کہا: اے ایوب1۔ میری چار باتیں یاد کر لو۔ قرآن میں اپنی رائے سے کچھ نہ کہنا۔ تقدیر میں غور و فکر سے بچ کر رہنا، اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا ذکر ہو، تو اپنی زبان کو روک لو، اور بدعتی کو موقع نہ دو کہ وہ تمہیں اپنی اپنی بات سنائیے۔ پھر وہ جیسے مرضی ہو تمہاری سماعت کے ساتھ کھیلے۔ 1 الإبانۃ الکبری: ۴۰۲۔ للالکائی: ۲۴۶۔ ذم الکلام: ۵۶۳۔ ۱۲۳۔ ابراہیم نخعی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :