کتاب: عقیدہ و آداب کی کتاب الشرح والابانہ - صفحہ 47
برائی پر دیکھ کر اس کی بھلائی سے مایوس نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ جب میں اسے کسی بدعتی کے ساتھ دیکھتا ہوں تو اس کی ہلاکت کا یقین ہو جاتا ہے۔‘‘ 1 الرد علی المبتدعۃ لابن البناء: ۴۹۔ علامہ بربہاری شرح السنۃ: ۱۳۹۔ فرماتے ہیں جب تم.....الخ۔ ۹۹۔ حضرت حسن فرماتے ہیں : بدعتی جتنی زیادہ عبادت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ سے اتنا ہی دور ہو جاتا ہے۔‘‘ 1 البدع لابن الوضاح: ۶۶۔ ذم الکلام: ۴۷۷۔ ۱۰۰۔ ابن عون کہتے ہیں : ’’بدعات کے ساتھ عبادت میں مشقت کرنے والا، اپنی اس مشقت کی وجہ سے آخرت کے عذاب کو پا لے گا۔‘‘ جیسا کہ ان آیات میں ہے: ﴿قُلْ ہَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاo اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ ہُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنَعًاo﴾ (الکہف: ۱۰۳۔ ۱۰۴) ’’کہہ دے کیا ہم تمھیں وہ لوگ بتائیں جو اعمال میں سب سے زیادہ خسارے والے ہیں ۔ وہ لوگ جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں ضائع ہوگئی اور وہ سمجھتے ہیں کہ بے شک وہ ایک اچھا کام کر رہے ہیں ۔‘‘ ﴿ہَلْ اَتٰکَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِo وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَۃٌo عَامِلَۃٌ نَاصِبَۃٌo تَصْلٰی نَارًا حَامِیَۃًo﴾ (غاشیۃ: ۱۔ ۴) ’’کیا تیرے پاس ڈھانپ لینے والی کی خبر پہنچی؟ اس دن کئی چہرے ذلیل ہوں گے ۔ محنت کرنے والے، تھک جانے والے ۔ گرم آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ ۱۰۱۔ اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ابلیس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا: تم ابن آدم کے پاس کہاں سے آتے ہو؟ وہ کہنے لگے: ہر طرف سے۔ کہنے لگا: کیا تم ان کے استغفار میں بھی حائل ہوتے ہو؟ کہنے لگے: یہ ایسی چیز ہے جس کی طاقت ہم میں نہیں ۔ بے شک وہ توحید کا اقرار کرنے والے ہوتے ہیں ۔ کہا: میں ایسے دروازے سے آؤں گا کہ پھر