کتاب: عقیدہ و آداب کی کتاب الشرح والابانہ - صفحہ 41
انس بن مالک کے پاس آیا اور سوال کیا، آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے: وہ کہنے لگا: دیکھو اگر ایسے ہوتا؟ تو آپ نے یہ آیت پڑھی: ﴿لَا تَجْعَلُوْا دُعَائَ الرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ کَدُعَائِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا قَدْ یَعْلَمُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْکُمْ لِوَاذًا فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہِ اَنْ تُصِیبَہُمْ فِتْنَۃٌ اَوْ یُصِیبَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴾ (النور: ۶۳)’’رسول کے بلانے کو اپنے درمیان اس طرح نہ بنالو جیسے تمھارے بعض کا بعض کو بلانا ہے۔ بے شک اللہ ان لوگوں کو جانتا ہے جو تم میں سے ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے کھسک جاتے ہیں ۔ سو لازم ہے کہ وہ لوگ ڈریں جو اس کاحکم ماننے سے پیچھے رہتے ہیں کہ انھیں کوئی فتنہ آپہنچے، یا انھیں دردناک عذاب آپہنچے۔‘‘ الشریعۃ: ۱۱۹۔ ۷۵۔ امام شعبی فرماتے ہیں : ’’میں نے کبھی اپنی رائے سے فیصلہ نہیں کیا۔‘‘ (الطبقات الکبری: ۶؍ ۲۵۰)میں ہے محدثین حجادہ نے کہا ہے کہ: عامرین شراحیل الشعبی سے ایک سوال پوچھا گیا: تو آپ کے پاس اس کا جواب نہیں تھا۔ آپ سے کیا گیا: اچھا پھر اپنی رائے میں بتا دو۔ تو آپ نے فرمایا: ’’میری رائے کو تم کیا کرو گے؟ میرے رائے پر پیشاب کرو۔‘‘ الإبانۃ الکبری میں : (۳۴۷)حضرت عطا سے کسی چیز کا سوال کیا گیا؟ آپ نے فرمایا: ’’میں نہیں جانتا‘‘ کہا گیا: اپنی رائے میں بتا دو؟ فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ سے حیاء آتی ہے کہ اس کی زمین پر میری رائے کو دین سمجھا جائے۔‘‘ ۷۶۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں : ’’میں نے تیس سال سے اپنی رائے سے فتویٰ نہیں دیا۔‘‘ 1 الطبقات الکبری لابن سعد: ۷؍ ۲۲۹۔ السیر: ۵؍ ۲۷۳۔ ۷۷۔ حضرت حسن فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سب سے برے لوگ وہ ہیں جو برے مسائل پوچھتے ہیں تاکہ اللہ کے بندوں میں ان کو عام کریں ۔‘‘ 1 الکبری: ۳۰۸۔ سنن الدارمی: ۱۰۶۔ ذم الکلام: ۵۳۹۔ جامع بیان العلم وفضلہ: ۲۰۸۴۔ ۷۸۔ حضرت میمون بن مہران اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ﴿فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ﴾ (النساء: ۵۹)’’پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی طرف اس کی کتاب کی طرف لوٹانا ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹانا آپ کی وفات کے بعد آپ کی سنت کی