کتاب: عقیدہ و آداب کی کتاب الشرح والابانہ - صفحہ 171
۵۴۲۔ ہر اس نام سے اظہار براء ت جو سنت کے خلاف ہو اور وہ لوگ جو اجماعت امت سے نکل جائیں اور اہل امت سے جدا ہو جائیں ، ایسا اعتقاد رکھنے والوں سے دور رہنا اور ان کی مخالفت سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنا، مثلاً روافض، شیعہ، جہمیہ، مرجئہ، حروریہ، معتزلہ، زیدیہ، امامیہ، المغیریۃ، اباضیہ، الکیسانیہ، صفریہ، شراۃ، قدریہ، منانیہ، ازارقہ، حلولیہ، منصوریہ، واقفہ اور جو کوئی صفات رؤیت کا انکار کرے اور ہر بدعتی عقیدہ، نئی اختراع شدہ رائے اور خواہش نفس یہ تمام چیزیں اور ان سے مشابہت رکھنے والے امور اور ان سے نکلنے والی اور قربت رکھنے والی لڑیاں ۔ یہ تمام ردی عقائد ہیں اور گندے مذاہب ہیں ، جو اہل مذاہب کو دین اسلام سے خارج کر دیتے ہیں ۔ ایسا عقیدہ رکھنے والا جملہ مسلمانوں سے باہر ہو جاتا ہے۔ (۱) جہمیہ:.....اس عنوان میں وہ تمام فرقے داخل ہوتے ہیں جن کا مصنف نے ذکر کیا ہے جیسے معتزلہ، واقفہ اور وہ فرقے جو اللہ تعالیٰ کی صفات، دیدار الٰہی کا انکار کرتے ہیں ان میں حلولیہ بھی شامل ہیں ۔ جو کہ اللہ تعالیٰ کے مخلوق پر عالی ہونے کی نفی کرتے ہیں جیسا کہ ابن بطہ نے ذکر کیا ہے۔ 1 الإبانۃ: ۳؍۱۳۶۔ امام بہاری شرح السنۃ: ۹۵ .....الخ۔ (۲) الرافضۃ:.....ان کے فرقوں میں شیعہ، زیدیہ، امامیہ، منصوریہ اور مغیریہ قابل ذکر ہیں ۔ عبداللہ بن احمد کہتے ہیں : میں نے اپنے والد صاحب سے پوچھا: رافضہ کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا: جو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کو گالی دیتے ہیں ۔1 السنۃ للخلال: ۷۷۔ (۳) مرجئہ:.....وہ فرقہ ہے جو اعمال کو ایمان کا حصہ شمار نہیں کرتے۔1 الإبانۃ: ۲؍۲۸۷۔ (۴) قدریہ:.....معتزلہ اور منانیہ: ان کے فرقے ہیں ۔ عبداللہ بن احمد کہتے ہیں : (السنۃ: ۸۳۵)علی بن جہم نے امام احمد سے پوچھا تقدیر میں کلام کرنے والے کے بارے میں