کتاب: عقیدہ و آداب کی کتاب الشرح والابانہ - صفحہ 168
1۔ دیکھیے: ابو داود: ۴۳۸۲۔ کوسج نے ’’المسائل‘‘ (۲۶۲۹)میں لکھا ہے کہ میں نے امام احمد سے پوچھا: کیا سفیان سے امتحان کے بارے میں سوال کیا تھا کہ حاکم کسی انسان کو پکڑ کر اس کا امتحان لے کہ تم نے ایسے کیا ہے، تم نے ایسے کیا ہے، حتیٰ کہ وہ اعتراف کر لے؟ تو آپ نے فرمایا: ہاں ، میرے نزدیک اس میں حرج نہیں اور جب انسان اعتراف کر لے تو اس پر اس کی گرفت ہو گی۔ لیکن ایسا کرنا نہیں چاہیے۔ امام احمد کہتے ہیں اگر انسان خوف کے مارے اس کا اقرار کر لے تو اس پر گرفت نہیں ہو گی۔ عبدالرزاق نے ’’المصنف‘‘ (۱۸۷۹۳)میں روایت کیا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک چور لایا گیا، اس نے اعتراف بھی کر لیا۔ مگر آپ نے فرمایا اس کا ہاتھ چور کا ہاتھ نہیں لگتا، تو اس آدمی نے کہا: اللہ...... ۵۳۰۔ ایسے ہی مسجد میں لے کے ساتھ شعر گوئی کرنا بدعت ہے۔ ۵۳۱۔ اور مردوں ک سواری پر عورتوں کا سوار ہونا بدعت ہے۔1 ابن ابی شیبہ: ۸؍۳۶۴۔ ۵۳۲۔ اور مردوں کا شیروں ؍ چیتوں کی کھال پر بیٹھنا بدعت ہے۔1 1۔ حضرت امیر معاویہ نے صحابہ کی ایک جماعت سے پوچھا: کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شیروں کی کھال پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے؟ کہنے لگے: اللہ گواہ ہے ہم جانتے ہیں ۔ (احمد: ۱۷۳۲۷۔ سنن ابی داود: ۱۷۹۶۔ ابن ابی شیبہ: ۸؍۳۶۲) ۵۳۳۔ سونے اور چاندی کے برتن بنانا اور ریشم اور دیباج پہننا بدعت ہے۔1 لحدیث حذیفۃ .....الخ۔ بخاری: ۵۴۲۶۔ مسلم: ۵۴۵۰۔ اور یہ بھی بدعت ہے کہ: ۵۳۴۔ قبروں کو پختہ بنایا جائے، یا ان پر عمارت تعمیر کی جائے۔1 لحدیث مسلم: ۲۲۰۵۔ ۵۳۵۔ قبروں کی زیارت کے لیے سفر کیا جائے۔1 البخاری: ۱۱۸۹۔ مسلم: ۳۳۶۴۔ اور یہ بھی بدعت ہے کہ: ۵۳۶۔ موت کو بہت بڑا سمجھنا اور ماتم پر کپڑے پھاڑنا، دروازوں کو کالا رنگ کرنا، پیشانی نوچنا اور میت دفن کرنے کے بعد ان کے گھر کے دروازہ پر بیٹھے رہنا اور میت کے اہل خانہ کا حاضرین کے لیے کھانا تیار کرنا، حاضرین کا اس کے گھر میں رات گزارنا۔1