کتاب: عقیدہ و آداب کی کتاب الشرح والابانہ - صفحہ 147
۴۰۳۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ انسان اپنے گھر میں یا کسی دوسرے کے گھر میں ننگا ہو۔1 1۔ سابقہ حاشیہ: صحیح البخاری، باب من اغتسل عریانا.....الخ۔ ۴۰۴۔ ایک دوسرے کی شرم گاہ دیکھنے سے منع فرمایا۔1 مسلم: ۸۹۴۔ ۴۰۵۔ اور یہ کہ کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ خلوت کسی کو بتائے۔1 مسلم: ۳۵۳۲۔ ۴۰۶۔ اور یہ کہ آپ نے کنکریاں یا ڈھیلے مارنے سے منع فرمایا۔1 البخاری: ۵۴۷۹۔ مسلم: ۵۰۹۱۔ شرح السنۃ: ۱۰؍۲۶۸۔ ۴۰۷۔ جھوٹی قسم اٹھانے سے منع فرمایا۔1 1۔ حدیث میں آتا ہے: ’’جھوٹی قسم سامان تجارت کو ختم کرتی ہے، لیکن کمائی سے برکت کو اڑا دیتی ہے۔‘‘ (احمد: ۷۲۰۷۔ البخاری: ۶۸۷۱) ۴۰۸۔ اور آپ نے کھجور کو پکنے تک بیچنے سے منع فرمایا: جب اس کا رنگ لال یا پیلا ہو جائے تب بیچا جائے۔1 بخاری: ۲۰۸۳۔ ترمذی: ۳؍۵۲۹۔ شرح السنۃ للبغوی: ۸؍۹۶۔ ۴۰۹۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے، بندر اور خنزیر کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے۔1 البخاری: ۵۴۲۸۔ ترمذی: ۱۲۷۵۔ امام ترمذی فرماتے ہیں : اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ کتے کی قیمت کو مکروہ سمجھتے ہیں ، امام شافعی، احمد او اسحاق کا قول ہے: بعض اہل علم نے کتے کی قیمت میں رخصت دی ہے۔ (شرح السنۃ: ۸؍۲۳) ۴۱۰۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شطرنج اور نرد کھیلنے سے منع فرمایا۔1 ابو داود: ۴۹۳۸۔ احمد: ۱۹۵۲۱۔ مسلم: ۵۹۵۸۔ الشریعۃ: ۲۶۔ اسنادہ صحیح۔ ۴۱۱۔ کسی مرد کے اجنبی (نامحرم)عورت کے ساتھ خلوت نشین ہونے سے منع فرمایا۔1 البخاری: ۵۲۳۳۔ ۴۱۲۔ کسی سے یہ نہیں کہنا چاہیے کہ جب تک آپ ہیں ہم بخیر و عافیت ہیں ۔1 الزہد لابن مبارک: ۵۴۔ ۴۱۳۔ یہ نہیں کہنا چاہیے: ((مَا شَائَ اللّٰہُ وَ شِئْتَ))’’جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں ۔‘‘1