کتاب: عقیدہ و آداب کی کتاب الشرح والابانہ - صفحہ 144
۳۸۶۔ جب مسجد میں داخل ہوں تو پہلے دائیاں پاؤں داخل کریں اور نکلتے وقت بائیاں پاؤں ، اور مسجد میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھیں : …الخ۔ اور باہر نکلتے وقت یہ دعا پڑھیں : .....الخ۔ 1 البخاری: ۴۱۶۔ ترمذی: ۳۱۴۔ ابن ماجہ: ۷۷۱۔ مسلم: ۱۵۹۹۔ اور یہ بھی سنت ہے کہ: ۳۸۷۔ جب نماز کے لیے جائیں سکون اور وقار کے ساتھ چلیں ۔ 1 البخاری: ۶۳۵۔ مسلم: ۱۳۰۴۔ ۳۸۸۔ ’’اور جب انسان نماز کے ارادہ سے کھڑا ہو نماز میں انگلیاں نہ چٹخارے۔‘‘ 1 ابن ماجہ: ۹۶۵۔ إبن رجب نے فتح الباری: ۳؍ ۴۲۶۔ میں اس روایت کو ضعیف کہا ہے۔ لیکن ابن ابی شیبہ کے نزدیک ابن عباس کی روایت سے ہر ممانعت ثابت ہے۔ شعبہ مولی ابن عباس فرماتے ہیں : میں نے ابن عباس کے پلو میں نما زپڑھی، اور نماز میں اپنی انگلیاں چٹخاریں ۔ جب نماز پوری کر چکے تو آپ نے فرمایا: تمہاری ماں مرے، نماز میں انگلیاں نہ چٹخارہ کرو۔‘‘ 1 1۔ ۲؍ ۳۴۴۔ ۳۸۹۔ نماز میں ہاتھوں میں ہاتھ نہ ڈالے۔ 1 1۔ یہ کعب بن عجرۃ کی حدیث سے ثابت ہے۔ دیکھیے: أحمد: ۱۸۱۰۳۔ ابن خزیمہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ (۴۴۱) ۳۹۰۔ نماز میں عبث امور اور ادھر ادھر مڑنا ترک کر دے۔1 رواہ البخاری: ۷۵۱۔ الاوسط: ۳؍۲۴۷۔ شرح السنۃ للبغوی: ۳؍۲۵۴۔ ۳۹۱۔ داڑھی اور انگوٹھی کے ساتھ عبث حرکات نہ کرے۔1 تعظیم قدر الصلاۃ: ۱۵۰۔ ابن ابی شیبۃ: ۳؍۲۲۴۔ مصنف عبدالرزاق: ۱؍۲۶۲۔ ۳۹۲۔ دائمی خشوع و خضوع کے ساتھ نظر سجدہ کی جگہ پر رکھے۔1 شرح السنۃ: ۳؍۸۶۱۔ تعظیم قدر الصلاۃ، ص: ۱۱۹۔ ابن خزیمۃ۔ ۳۹۳۔ دائیاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے باندھے۔ جیسا کہ حضرت علی بن ابی طالب