کتاب: عقیدہ و آداب کی کتاب الشرح والابانہ - صفحہ 122
میں ایسی روایات نہیں لکھتا۔ میں نے پھر پوچھا: جس کے بارے میں ہمیں معرفت ہو کہ وہ اس قسم کی روایات لکھتا اور جمع کرتا ہے، کیا اس سے قطع تعلقی کر لی جائے؟ فرمایا: بالکل، بلکہ ایسی ردی روایات جمع کرنے والا رجم ہونے کا اہل ہے۔ ٭ ایسا کرنے والے کے متعلق ان حضرات سے مختلف الفاظ ہیں بہت سارا کلام منقول ہے۔ اس سب کا متعلق علیہ معنی ایسا کلام نقل کرنے کی کراہت اور نا پسندیدگی ہے، اور اُن لوگوں پر انکار کرنا ہے جو ایسی روایات نقل کرتے ہیں یا سنتے ہیں ؟ 1 السنۃ للخلال۔ الشریعۃ: ۵؍ ۲۴۸۵۔ السنۃ بربہاری: ۱۲۴۔ ۳۲۴۔ پھر اس کے بعد: حضرت عائشہ بنت ابو بکر صدیق کے لیے صداقت کی شہادت دی جائے گی۔ آپ وہ طاہرہ طیبہ ہیں جن کی برأت آسمانوں کے اوپر سے جبرئیل کی زبان پر نازل ہوئی۔ جو کہ اللہ تعالیٰ کی طر ف سے خبر دی گئی ہے، اور اس کی کتاب اس کی تلاوت ہوتی ہے، اور امت کے سینوں میں مصاحف میں قیامت تک محفوظ ہوتی ہے، اور امت کے سینوں میں مصاحف میں قیامت تک محفوظ رہے گی۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ، طیبہ، طاہرہ، صبراۃ، خیرۃ، فاضلہ ہیں ۔ آپ دنیا میں اور جنت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں ، اور دنیا و آخرت میں اہل ایمان کی ماں ہیں ۔ جو کوئی اس میں شک کرے، یا اس پر طعنہ زنی کرے، یا اس میں توقف کرتے تو یقیناً وہ کتاب اللہ کو جھٹلانے والا ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی وحی میں شک کرتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ یہ کلام غیر اللہ کی طرف سے ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿یَعِظُکُمُ اللّٰہُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِہٖ اَبَدًا اِِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَo﴾ (النور: ۱۷) ’’اللہ تمھیں نصیحت کرتا ہے اس سے کہ دوبارہ کبھی ایسا کام کرو، اگر تم مومن ہو۔‘‘ جو کوئی اس کا انکار کرے تو وہ ایمان سے بری ہو گیا۔ 1 الشریعۃ: ۵؍ ۲۳۹۳۔