کتاب: عقیدہ و آداب کی کتاب الشرح والابانہ - صفحہ 116
الشریعۃ: ۴؍ ۱۷۵۶۔ للالکائی: ۷؍ ۲۳۷۔ ان حضرات کی محبت اور فضیلت کی معرفت سے دین کا قیام سنت کا استہام اور حجت کا قیام ہے۔ 1 الإبانۃ: ۱؍ ۳۲۱۔ السنۃ للخلال: ۲؍ ۴۰۴۔ خلفائے اربعہ سے محبت کی، اور ان سے دوستی رکھی، اور ان کے لیے دعائیں کرتا رہا، ان کے حقوق کا خیال رکھا، اور ان کی فضیلت کو جانا، تو وہ بھی کامیاب ہونے والوں کے ساتھ ہو گیا، جس کسی نے ان سے بغض رکھا انہیں گالی دی اور ان کی طرف ایسی باتیں منسوب کیں جیسے خوراج اور روافض کرتے ہیں تو وہ بھی ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہو گیا۔ 1 العقیدۃ: ۱۴۰۔ ۳۱۶۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’سلف صالحین میں سے کسی کو گالی نہ دو، سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔‘‘ 1 السنۃ للحرب الکرمانی: ۴۶۵۔ للالکائی: ۲۳۵۵۔ ۳۱۷۔ اور عشرہ مبشرہ کے لیے بلاشک و شبہ جنتی ہونے کی گواہی دو۔ اس میں کوئی استثناء نہیں ۔ یہی لوگ اصحاب حراء ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ابو بکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعید، سعد، عبدالرحمن بن عوف، ابو عبیدہ الجراح رضی اللہ عنہم ۔ کوئی ایک خیر و فضل میں ان حضرات سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ 1 مسلم: ۳۶۲۷۔ اسن یا حراء…، الشریعۃ: ۴؍ ۱۶۹۵۔ ۳۱۸۔ اور اُن تمام حضرات کے جنتی ہونے کی گواہی دو، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی ہے، اور یہ کہ: ’’حضرت حمزہ سیّد الشہداء ہیں ۔‘‘ 1 الطبرانی: ۲۹۵۸۔ حاکم: ۳؍ ۱۹۵۔ صحیح۔ ٭ اور حضرت جعفر الطیّار جنت میں ہیں ۔ 1 ترمذی: ۳۷۶۳۔ ٭ حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ 1 الترمذی: ۳۷۶۸۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔