کتاب: عقیدہ و آداب کی کتاب الشرح والابانہ - صفحہ 102
ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پل صراط پر اہل ایمان کا ورد ہوگا: مسلم سلم۔ 1 بخاری: ۸۰۶۔ مسلم: ۳۷۳۔ الحاکم: ۲؍ ۳۷۵۔ معجم الکبیر: ۲۰؍ ۴۲۵۔ ۲۶۵۔ اور پل صراط تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک ہو گی۔ (یہ حضرت عائشہ کی روایت کی طرف اشارہ ہے، فرمایا: والجہنم حسیر…)1 أحمد: ۲۴۷۹۳۔ مسلم: ۳۷۴۔ للالکائی: ۶؍ ۴۹۵۔ ۲۶۶۔ پھر میزان پر ایمان لانا واجب ہے۔ فرمان الٰہی ہے: ﴿وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ﴾ (الانبیاء: ۴۷)’’اور ہم قیامت کے دن ایسے ترازو رکھیں گے۔‘‘ ۲۶۷۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’لوگوں کو میزان کے پاس لایا جائے گا، اور وہ وہاں پر بہت سخت جھگڑا کریں گے۔‘‘ 1 إبن أبی شیبۃ: ۱۶۰۴۳۔ الزہد لأحمد۔ المجالسۃ للمدینوری: ۱۰۔ صحیح السند۔ ۲۶۸۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((المیزان بیدالرحمن یخفضہ ویرفعہ۔))’’جو کوئی اس میں شک کرے، یا اسے جھٹلائے، تو وہ بہت بڑا ملحد ہے۔‘‘ 1 أحمد: ۱۷۶۳۰۔ ابن ماجہ: ۱۹۹۔ عبداللّٰہ فی السنۃ: ۱۲۰۲۔ پرانے عہد کے اہل علم محدثین، زہا و عباد کا نما شہروں میں اتفاق رہا ہے کہ میزان پر ایمان لانا واجب ہے۔ امام احمد اپنا عقیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اور سنت یہ ہے کہ میزان پر ایسے ایمان رکھا جائے جیسا کہ احادیث میں وارد ہوا ہے۔ بروز قیامت ایک آدمی کا وزن کیا جائے گا۔ تو اس کا وزن مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہوگا، اور انسانوں کے اعمال کا وزن ہوگا۔ جیسا کہ احادیث میں آیا ہے۔ اس پر ایمان لانا اور اور اس کی تصدیق کرنا ضروری ہے، اور اس کے منکرین سے منہ موڑ لینا چاہیے، اور بات چیت بند کر دینا چاہیے۔ 1 للالکائی: ۳۱۷۔ ۲۶۹۔ پھر حوض اور شفاعت پر ایمان لانا واجب ہے۔ 1 سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : معتزلہ حوض اور شفاعت کو جھٹلاتے ہیں ، اور اہل قبلہ میں سے اُن لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنا جائز سمجھتے ہیں جو اُن کی خواہشات اور عقیدہ پر چلتا ہو۔