کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 453
سلف صالحین کے فہم کے موجب بات کریں۔ یہی تمہاری سیدھی راہ یہ اور یہی منہج قویم کہ جس کا حکم ہمارے رب اللہ الرحمن الرحیم نے دیا۔ فرمایا: ﴿وَأَنَّ هَـٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ (الانعام:۱۵۳) ’’اور (اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ) یہ میری سیدھی راہ ہے اس پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو۔ وہ تم کو اللہ کی راہ سے ہٹا دیں گی۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے تم کو حکم دیا ہے تاکہ تم (ان کا خلاف کرنے سے) بچے رہو۔‘‘ عقیدہ ٔ سلف صالحین ہی وہ واحد راستہ ہے کہ جس کے ذریعے اُس اُمت کے حال کی اصلاح ہو سکتی ہے۔ ہم اللہ رب العالمین سے اس انعام کی دعا کرتے ہیں کہ جس طرح اُس نے ہماری راہنمائی منہج سلف صالحین (صحابہ کرام و تابعین و تبع تابعین و من تبعھم باحسان الی یوم الدین رحمہم اللہ اجمعین) کی طرف فرمائی ہے ، اسی طرح وہ عملاً بھی ہمیں اُنہیں میں سے کر دے۔ اور قیامت والے دن وہ ہمیں سیّد الجِنّۃ وَالبشر إمام الانبیاء والرسل ، اَشر ف الخلائق بعد اللّٰه الکریم الشّافع والمشفَّع النّبیّ الکریم محمد رسول اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم کے جھنڈے تلے انہی سلف صالحین کے ساتھ جمع فرما دے۔اور یہ کہ وہ ہمارے دلوں کو راہِ حق سے ٹیڑھا نہ کر دے کہ جب اس نے ہمیں اس کی ہدایت عطا فرما رکھی ہے۔ اور ہم اپنے رب کریم سے اس بات کا بھی سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنے صالح موحد بندوں میں سے کردے کہ جو صرف اسی کی راہ پر عمل پیرا ہوں۔ بلاشک و شبہ وہ اس پر قادر ہے اور وہ دعاؤں کو نہایت قریب سے سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلیٰ نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلیٰ آلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ وآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ