کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 451
میرے مسلم و محترم بھائی! اس بات کو جان لیجیے ، اللہ عزوجل ہمیں اور آپ کو بھی حق کی ہدایت عطا فرمائے کہ جس کسی آدمی نے بھی کتاب و سنت اور فہم سلف صالحین سے ہٹ کر ہدایت کو طلب کرنے کی کوشش کی یا وہ کسی ایسے معاملے (فیصلہ و حکم اور فضیلت) کو لایا کہ جو اس سے زائد (بڑھا ہوا) ہو کہ جو اللہ عزوجل نے شریعت ٹھہرایا ہے تو بلاشک و شبہ وہ نہایت واضح ، صریح گمراہی میں غوطے کھا رہا ہے اور صراطِ مستقیم سے بہت دُور ہے۔ وہ اہل ایمان واسلام کی راہ کے علاوہ اور لوگو ں کی راہ کا متبع ہے۔ پس ہم اس بات کا یقین محکم رکھتے ہیں کہ ہم تمام کی تمام سنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اُن کی مکمل ہیئت و صورت میں پورا پورا عمل کرنے سے پہلے ہی فوت ہو جائیں گے۔ (اور اپنی زندگی میں تمام سنتوں پر پورا پورا عمل نہ کر سکیں گے۔) تو پھر دین حنیف میں بدعت کس لیے؟ امام مالک بن انس رحمہ اللہ اکثر یہ شعر پڑھا کرتے تھے: وخَیْرُ أُمُورِ الدِّیْنِ مَا کَانَ سُنَّۃً وَ شَرُّ الْاُمُوْرِ الْمُحدْثَاتُ الْبَدَائِعُ ’’دین اسلام کے اُمور میں سب سے بہتر اور خیر کا کام وہ ہے جو سنت ہو۔ جب کہ تمام اُمور میں سب سے بُرے دین حنیف میں نئے نئے ایجاد کردہ کام اور بدعات و خرافات ہیں۔‘‘ [1] اور اس بات پر بھی ساری اُمت کا اتفاق ہے کہ دنیا جہان کے تمام عبادت گزاروں میں سب سے افضل عبادت گزار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ چنانچہ ہر وہ عبادت کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے اُلٹ ہو وہ بدعت ہوا کرتی ہے، اس عبادت کے ذریعے کوئی بھی بدعتی عبادت گزار اللہ عزوجل کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ بلکہ یہ عبادت اُسے اللہ کریم سے مزید دُور کر دے گی۔ جیسا کہ اللہ عزوجل کا ارشادِ گرامی قدر ہے: ﴿ثُمَّ جَعَلْنَاكَ عَلَىٰ شَرِيعَةٍ مِّنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَ
[1] الاعتصام للإمام الشاطبی رحمہ اللہ۔