کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 450
((قَدْ عَلِمْتُ مَتیٰ صَلاحُ النَّاسِ وَمَتیٰ فَسادھم! اذا جائَ الفقہُ مِن قِبَلِ الصّغِیْرِ استَعصَی علَیہ الْکَبِیْرُ، واذا جائَ الفِقہُ مِن قِبَلِ الْکَبِیْرِ تَابَعہُ الصّغِیرُ، فاھتَدَیا۔)) [1]
’’میں اس بات کو جان چکا ہوں کہ کب لوگوں کی اصلاح ہوتی ہے اور کب ان میں فساد واقع ہوتا ہے۔ جب کسی چھوٹے عالم (جس کا علم ناقص، کچا اور قرآن و سنت سے ہٹ کر ہو) کی طرف سے کوئی فقہ آئے گی تو اس پر کوئی بڑا بھی نافرمانی و معصیت کا شکار ہو جائے گا۔ اور جب (قرآن و سنت کے ثقہ علم پر دسترس رکھنے والے) کسی بڑے عالم کی طرف سے فقہ آئے گی تو اس کی اتباع چھوٹا بھی کر لے گا۔ اور پھر دونوں ہدایت پر ہوں گے۔‘‘
امیر المؤمنین سیّدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا:((أُنْظُرُوْا عَمَّنْ تَأْخُذُوْنَ ھٰذَا الْعِلْمَ ؛ فَإِنَّمَا ھُوَ الدِّینُ)) ’’خوب غورو فکر کی نظر سے دیکھو کہ کس سے تم یہ علم لے رہے ہو؟بلاشک یہی دین ہے۔‘‘ [2] (یعنی دین حنیف کی اصل و اساس کے بارے میں تحقیق کرنا۔)
جلیل القدر صحابی سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا:
((لَا یَزالُ النَّاسُ بِخَیرٍ مَا أَخَذُوا الْعِلْمَ عَن أَکابرِہِمْ، فَاِذَا أَخَذُوہُ مِنْ أَصَاغِرِھِمْ وَشِرَارِھِمْ ہَلَکُوْا۔)) [3]
’’تب تک لوگ ہمیشہ خیر و فلاح میں رہیں گے جب تک وہ (قرآن و سنت کا) علم اپنے اکابر (صحابہ کرام و تابعین عظام رحمہم اللہ جمیعاً جسے سلف صالحین) سے لیتے رہیں گے اور جب وہ اپنے چھوٹے لوگوں (قیل و قال والے مولویوں) اور اپنے بُرے لوگوں سے علم سیکھنا شروع کر دیں گے تو وہ ہلاک ہو جائیں گے۔‘‘
[1] رواہ ابن عبدالبر، فی جامع بیان العلم ، ص : ۲۴۷
[2] رواہ الخطیب فی الکفایۃ فی علوم الروایۃ، ص: ۱۹۶۔
[3] راوہ ابن عبدالبر، فی جامع بیان العلم ، ص :۲۴۸۔