کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 437
حق کو سلف صالحین کے فہم کے مطابق لے لیں۔ ۲۰…مغرب کے صحیح موقف کو محدود کر کے ہم اُن کے تجرباتی علوم سے اپنے دین عظیم کے اُصول و ضوابط کے مطابق فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ ۲۱…دعوت الی اللہ میں مشورہ کی اہمیت کا اقرار اور داعی الی اللہ کے لیے مشورہ و استشارہ سے متعلق تفقہ فی الدین کا سیکھنا بھی نہایت ضروری ہے۔ (اس سے دعوت میں نکھار آتا ہے۔) ۲۲…اپنی ذات میں اعلیٰ سیرۃ کا نمونہ (تاکہ مخاطبین دینی تعلیمات کا عملی نمونہ دیکھ کر اپنا عقیدہ و عمل مضبوط کر سکیں۔)داعی الی اللہ اپنی دعوت کا آئینہ اور نمونہ ہوتاہے کہ جس سے نصیحت حاصل کی جائے۔ ۲۳…حکمت ودانائی اور موعظہ حسنہ کو اختیار کرنا اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے درج ذیل فرمان کو دعوت الی اللہ اور اس دعوتی راہ پر چلنے کے لیے ایک پیمانہ بنانا بھی اُصول دعوت میں سے ایک اصل عظیم ہے۔ فرمایا: ﴿ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ﴾ (النحل:۱۲۵) ’’(اے پیغمبر) لوگوں کو حکمت (اور تدبیر) اور اچھی نصیحت سے (جس میں سختی نہ ہو ملائمت سے سمجھا کر) اپنے رب کی راہ کی طرف بلا۔ اور ان سے بحث کرو تو اس طور سے جو پسندیدہ ہو، بیشک تیرا رب خوب جانتا ہے۔ کون اس کی راہ سے بھٹک گیا ہے؟ اور جن لوگوں نے راہ پائی ان کو بھی وہ خوب جانتا ہے۔‘‘ [1]
[1] یعنی دعوت میں صرف ان چیزوں کا خیال رکھا جائے۔ ایک حکمت اور دوسرے اچھی نصیحت۔ حکمت کا مطلب یہ ہے کہ نہایت سنجیدہ طریقہ سے مخاطب کی ذہنیت کا لحاظ کرتے ہوئے بات پیش کی جائے۔ اور اچھی نصیحت کا مطلب یہ ہے کہ نہایت نرمی اور دلسوزی سے نصیحت کی جائے تا کہ مخاطب سن کر متاثر ہو اور سمجھے کہ میرے ہی فائدہ کی خاطر یہ بات کہی جا رہی ہے۔ یعنی نہایت نرمی اور محبت سے اخلاق و تہذیب کے دائرہ کے اندر رہتے ہوئے ، نہ کہ جھڑک کر اور دل آزار باتیں بنا کر ۔یعنی دعوت و تبلیغ میں اصل چیز اپنے دین کے اصولوں اور اس کی تعلیمات پر کار بند رہنا ہے نہ کہ سچ یا جھوٹ ، یا جس طرح بھی ممکن ہو اپنی بات کا قائل کر لینا۔ لہٰذا یہ فکر نہیں کرنی چاہیے کہ کون ہماری بات مانتا ہے اور کون نہیں مانتا ۔ نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔