کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 415
ہدایت مستقیم پر تھے۔‘‘
اور آپ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا کہ:’’قرآن و سنت کی اتباع کرو، بدعات و خرافات کو اختیار نہ کرو۔ اسی سے تم (دینی اُمور میں) با کفایت ہو جاؤ گے۔ قرآن و سنت والے پرانے منہج و طریق کو لازم پکڑ لو۔‘‘ [1]
۴…سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :
لَا یَزالُ النّاسُ عَلَی الطَریقِ ، مَا اتَّبَعُوا الأَثَرَ۔
وقال :کلُّ بِدْعَۃٍ ضَلالَۃٌ ، واِنْ رَآھَا النَّاسُ حَسَنَۃً۔)) [2]
’’لوگ جب تک حدیث پر عمل پیرا رہیں گے ہمیشہ سیدھی راہ پر رہیں گے۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا:ہر بدعت گمراہی ہے اگرچہ لوگ اس کو بصورتِ نیکی کیوں نہ دیکھیں۔‘‘
۵…ایک اور جلیل القدر صحابی سیّدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :((لَنْ تَضِلَّ مَا أَخَذْتَ بِالْأَثَرِ…)) ’’جب تک حدیث و سنت کو علماً و عملاً تھامے رہو گے ہر گز گمراہ نہیں ہو گے۔‘‘ [3]
۶…امیر المؤمنین سیّدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
لَوْ کانَ الدِّیْنُ بِالرَّأَیِ! لَکَانَ باطنُ الْخُفَّیْنِ أَحَقَّ بالَمسْح مِنْ ظاہِرھِما وَلَکِنْ رأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم یَمْسَحُ عَلَیٰ ظاہِرھِما۔)) [4]
[1] اخرجہ الدارمی فی : ((سننہ)
[2] رواہ اللالکائی فی شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ۔
[3] رواہ ابن بطہ فی الانابۃ۔
[4] أخرجہ ابن أبی شیبۃ فی المصنف۔