کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 412
جاتے ہیں۔ (کسی کو تکلیف نہیں دیتے باوجود قدرت کے) اور لوگوں سے درگزر کرتے ہیں (ان کا قصور معاف کر دیتے ہیں) اور اللہ نیکی کے اعلیٰ درجہ کو پہنچے ہوئے لوگوں کو پسند کرتا ہے۔ ‘‘[1] (آل عمران:۱۳۴۔ آیت پیچھے گزر چکی ہے۔)
علاوہ ازیں اخلاقِ نبوت میں سے اور بھی بہت سارے اوصاف کے یہ لوگ حامل ہوا کرتے ہیں۔ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَکَارِمَ الاَْخْلَاقِ۔)) ’’بلاشبہ مجھے اسی لیے مبعوث کیا گیا ہے کہ میں مکارمِ اخلاق کو پورا کروں۔‘‘ [2]
اگر دونوں جہانوں میں نجات چاہتے ہوں تو ہمیں اپنے سلف صالحین رضی اللہ عنہم کے اخلاقِ حسنہ کو اپنانا چاہیے۔
[1] ان کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ غصہ سے مغلوب ہو نے کی بجائے اس پر قابو پا لیتے ہیں ۔ ایک روایت میں ہے ’’پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔‘‘ (بخاری و مسلم) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ گھونٹ غصہ کا گھونٹ ہے جسے بندہ پی لیتا ہے۔ جو شخص اپنا غصہ پی لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے پیٹ کو ایمان سے بھر دیتا ہے۔‘‘ (مسند احمد)
یہ دراصل غصہ پی جانے کا لازمی تقاضا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر فرمایا: ’’جو کوئی عفو و در گزر سے کام لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی عزت افزائی فرماتے ہیں ۔‘‘ اس باب میں متعدد احادیث وارد ہیں ۔ (ملاحظہ ہو: ابن کثیر)
[2] مسند الامام احمد : ۲؍۳۸۱ عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ و صححہ الحاکم: ۲؍۶۱۳۔