کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 401
كَثِيرٍ﴾ (الشوریٰ:۳۰)
’’اور (لوگو) تم پر جو مصیبت آتی ہے تو تمہارے ہاتھوں نے جو کیا اس کی سزا میں۔ اور وہ بہت (سے قصور) معاف کر دیتا ہے۔ ‘‘ [1]
یہ اہل السنۃ والجماعت آزمائشوں اور مصیبتوں میں اور اللہ کے دین کی نصرت میں زمینی اسباب اور دنیاوی امدادوں اور کونی ضابطوں پر بھروسہ نہیں کیا کرتے۔ لیکن یہ ہے کہ وہ ان سے غافل بھی نہیں رہتے۔ اور ان سب سے پہلے وہ اس بات کو دیکھتے ہیں کہ ؛ بلاشبہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا تقویٰ (خوف اور ڈر)، گناہوں پر استغفار، اللہ پرمکمل توکل او ر کشائش کے وقت اللہ کا شکر اُن اہم ترین اسباب میں سے ہیں کہ جن کے ذریعے اللہ رب العالمین و ارحم الراحمین سختی کے بعد آسانی و فراوانی جلد عطا فرما دیتے ہیں۔
سلفی جماعت حقہ کے اہل السنۃ والجماعۃ نعمت کی ناشکری پر سزا اور جان بوجھ کر اُس کے انکار پر سزا سے ڈرتے ہیں۔ اس لیے آپ ان کو تمام لوگوں سے زیادہ اللہ کے شکر اور اُس کی حمد و ثناء پر حریص پائیں گے۔ اور ان کو ہر ہر نعمت پر اس شکر و حمد پر ہمیشگی کرتے ہوئے دیکھیں گے ، چاہے وہ نعمت چھوٹی ہو یا بڑی۔ جیساکہ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((اُنْظرُوا اِلَیٰ مَنْ ھُوَ أَسْفَلَ مِنْکُمْ، وَلَا تَنْظُرُوا اِلَیٰ مَنْ ہُو
[1] یہ اس کی رحیمی اور کریمی ہے ۔ اگر وہ ہر قصو ر پر گفت کرتا تو زمین پر کوئی جاندار باقی نہ رہتا۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : یہ خطاب عاقل بالغ لوگوں کو ہے گنہگار ہوں یا نیک، مگر نبی( اس میں ) داخل نہیں ان کے واسطے اور کچھ ہو گا اور سختی دنیا کی بھی آ گئی، قبر کی اور آخرت کی بھی۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بندے کو کوئی چھوٹی یا بڑی مصیبت نہیں پہنچتی مگر وہ اس کے گناہ کی بدولت ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے جو درگزر فرماتا ہے وہ اس سے زیادہ ہوتا ہے۔ ‘‘ اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (شوکانی بحوالہ جامع ترمذی)