کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 395
بہتر امت ہو۔ تم اچھا کام کرنے کا حکم دیتے ہو اور برے کام سے منع کرتے ہو۔ اور اللہ پر ایمان لاتے ہو۔ اگر (تمہاری طرح) اہلِ کتاب (یہود اور انصاری) بھی ایمان لاتے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا (اس دنیا کی حکومت اور دولت کے اعتبار سے) ا ن میں تھوڑے تو ایمان دار ہیں اور اکثر نافرمان و فاسق، فاجر۔‘‘ [1] سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تم میں سے جو شخص کسی برائی (خلافِ شرع کام) کو دیکھے اُسے چاہیے کہ وہ اس کو اپنے ہاتھ سے بدل دے۔ اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے منع کرے۔ اور اگر وہ اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دل سے اس کو بُرا جانے۔ یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔‘‘[2] اہل السنۃ والجماعۃ سلفی جماعت حقہ کے اہل ایمان و اسلام امر بالمعروف اور نہی عن المنکر والے عمل میں نرمی کی رائے رکھتے ہیں۔ اور اسی طرح اس بات کی بھی رائے رکھتے ہیں کہ دعوت الی اللہ کا کام نہایت حکمت و دانائی اور اچھے، بااخلاق وعظ کے ذریعے کیا جائے جیساکہ اللہ عزوجل کا ارشادِ گرامی قدر ہے:
[1] یعنی نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ سب انبیاء سے افضل ہیں اس لیے اُمت محمدی علی صاحبہا التحیۃ و السلام تمام اُمتوں سے افضل اور بہتر ہے۔ جیساکہ حدیث تفضیل علی الانبیاء میں ہے : وَجُعِلَتْ اُمَّتِيْ خَیْرَ الْاُمَمِ ’’کہ میری اُمت تمام اُمتوں سے بہتر بنائی گئی ہے ۔‘‘ ( نیزدیکھیے: البقرہ: ۱۴۳) اور اُمت کی یہ فضیلت آیت میں مذکور صفات کی وجہ سے ہے۔ ایک امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور جہاد فی سبیل اللہ ، دوسری ایمان باللہ یعنی خالص توحید کا عقیدہ۔ ایمان باللہ میں اللہ تعالیٰ کے تمام رسولوں اور کتابوں پر ایمان لانا بھی داخل ہے۔ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ’’ جو شخص افضل اُمت میں داخل ہونا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ اس مذکورہ شرط کو پورا کرے ۔ ‘‘ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس ’’ خیر اُمّت‘‘ سے صرف مہاجرین ؓ مراد لیتے ہیں ۔ مگر آیت عام ہے اور قیامت تک ہر قرن کے مسلمان اپنے زمانہ کے اعتبار سے دوسروں سے افضل ہیں ۔ (شوکانی ۔ ابن کثیر) [2] صحیح مسلم کتاب الایمان۔ حدیث:۱۷۷