کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 372
سنگار (مردوں کو) دکھاتی نہ پھرنا۔ اور نماز کو درستی کے ساتھ ادا کرتی رہو۔ زکوٰۃ دیتی رہو اور اللہ اور اس کے رسول کا فرمان مانتی رہو۔ (پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے) گھر والو! اللہ تعالیٰ اور کچھ نہیں صرف یہ چاہتا ہے کہ تم سے (ہر طرح کی) پلیدی دور کرکے تم کو خوب ستھرا (پاک صاف) بنا دے۔‘‘ [1] اور نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ، امہات المومنین میں :سیدات خدیجہ بنت خویلد ، عائشہ بنت ابو بکر صدیق ، حفصہ بنت عمر بن الخطاب ، ام حبیبہ رملہ بنت ابو سفیان، ام سلمہ ہند بنت ابو امیہ بن مغیرہ ، سودہ بنت زمعہ بن قیس ، زینب بنت جحش ، میمونہ بنت حارث ، جویریہ بنت حارث بن ابو ضرار اور صفیّہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہن جمیعًا سب شامل ہیں۔ اہل السنۃ والجماعۃ اہل الحدیث اس بات کا بھی اعتقاد رکھتے ہیں کہ :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات ، امہات المومنین نہایت
[1] آیت کا سیاق و سباق صاف بتا رہا ہے کہ یہاں اہلِ بیت سے مراد نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازاواج مطہرات ہیں ۔ رضی اللہ عنہن جیسا کہ ’’ یَا نِسَائَ النَّبِیِّ ‘‘ اور اگلے خطاب سے معلوم ہوتا ہے اور قرآن میں ’’اہلِ بیت ‘‘ کا لفظ صرف بیوی کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ دیکھے سورہ ہود:۷۳) بعض روایات میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو بلایا اور ان پر اپنا کمبل ڈال کر دعا فرمائی: ’’ اَللّٰہُمَّ ہٰؤُلَائِ اَہْلُ بَیْتِیْ فَاَذْہِبْ عَنْھُمُ الرِّجْسَ وَطَہِّرْھُمْ تَطْہِیْرًا‘‘ اے اللہ ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں ان سے ناپاکی دور فرما اور انہیں صاف ستھرا بنا دے ‘‘ اس حدیث کے یہ معنی نہیں ہے کہ ازواج مطہرات اہل البیت میں سے نہیں ہیں ۔ بلکہ اصل میں آیت تو ’’ازواج مطہرات ‘‘ ہی کے متعلق نازل ہوئی ہے اور ان کو تطہیر کی خوشخبری دی گئی ہے۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے حضرت فاطمہ، علی بن ابوطالب، اور حسن و حسین رضی اللہ عنہم بھی اس میں شامل ہو گئے۔ اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر کمبل ڈالا اور دعا کی تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بھی اپنا سر اس کپڑے کے اندر کر لیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ اِنَّکَ اِلَی خَیْر مَرَّتَیْنِ‘‘ تم تو ( اس ) خیر ہی دوہری شامل ہو۔‘‘ یعنی اس آیت کے اعتبار سے بھی اور میری اس دعا کے تحت بھی۔ (قرطبی)