کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 368
’’میرے اصحاب کو مت برا کہو ، میرے صحابہ کو برا مت کہو۔ اس ذات اقدس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر تم میں سے کوئی غیر صحابی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کر دے (اللہ کی راہ میں) تو وہ ان (اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم) کے ایک مد (سیر بھر کے برابر بھی نہیں ہوسکتا) اور نہ ہی آدھے مد (آدھے سیر) کے برابر ہو سکتا ہے۔ ‘‘[1]
اور اہل السنۃوالجماعۃ سلفی جماعت حقہ کے اہل ایمان واسلام اس بات کا عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ :صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین من حیث الجماعۃ خطا سے معصوم تھے۔ (یعنی ان کا اجتماعی فیصلہ غلط نہیں ہوتا تھا۔) اور جہاں تک ان کی افرادی حیثیت ہے تو اس اعتبار سے وہ غیر معصوم تھے۔ (انفرادًا ان سے غلطیاں ہو جاتی تھیں۔) اور اہل السنۃ والجماعۃ کے ہاں اللہ عزوجل کی طرف سے کسی کو خطا سے معصوم کر دینا (کہ اس سے غلطی سرزد نہ ہو۔) صرف ان لوگوں کے لیے ہوتا تھاکہ جنہیں رب کریم اپنے دین کو دنیا تک پہنچانے کے لیے بطور پیغمبر منتخب فرما لیتے تھے۔ اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے من حیث المجموع امت اسلامیہ کو خطا سے محفوظ رکھا ہے، انفرادی طور پر نہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
[1] رواہ مسلم ، کتاب فضائل الصحابۃ، باب تحریم سبّ الصحابۃ،حدیث:۶۴۸۷۔
امام لالکائی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’شرح اُصول اعتقاد اہل السنہ‘‘ میں لکھا ہے کہ: امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں ان کے بیٹے عبید اللہ اور صحابی رسول جناب مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے درمیان کسی بات پر ذرا سخت قسم کی گفتگو ہو گئی ۔ دوران گفتگو عبید اللہ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے لگے : جب عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کو علم ہوا تو فرمایا : قینچی لاؤ میں عبید اللہ کی زبان کاٹ دوں ، تاکہ اس کے بعد کسی کو جرأت نہ ہو کہ وہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی کے بارے میں برا بھلا کہہ سکے ۔ ‘‘