کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 367
اہل السنۃ والجماعۃ کے اہل ایمان …صحابہ کرام کے درمیان واقع ہونے والے کسی بھی جھگڑے اور نزاع کے بارے میں اپنی زبانوں کو روک کر رکھتے ہیں اور ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کیا کرتے ہیں۔ [1] تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین میں سے جو درست فیصلے کرنے والے تھے ان کے لیے اللہ کے ہاں دوہرا اجر تھا اور ان میں سے جو غلطی کرنے والے تھے ان کے لیے ایک اجر بہر حال ضرور تھا۔ (کیونکہ ان کی خطا بھی اجتہادی ہوتی تھی۔) اور ان کی خطا اللہ عزوجل کے ہاں قابل معافی تھی ان شاء اللہ۔ اہل السنۃ والجماعۃج سلفی جماعت حقہ کے اہل ایمان و اسلام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی کو بھی برا نہیں کہتے (اور نہ ان کے بارے میں تبرا بولتے ہیں) بلکہ ان کو وہ اسی اعلیٰ تعریف کے ساتھ یاد کرتے ہیں کہ جس کے وہ مستحق ہیں۔ جیساکہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تَسُبَّوا أَصْحَابِی، لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِی، فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہ! لَوْ أَنَّ أَحَدَکُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَھَباً مَا أَدْرَکَ مُدَّ أحَدِھِم، وَلَا نَصِیفَہُ))
[1] جمہور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین فتنہ میں پڑے ہی نہیں تھے ۔ اور جب فتنہ و فساد نے ہجوم کر دیا تو نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی تعداد ایک لاکھ سے بھی زیادہ تھی اور اس فتنہ میں ایک سو آدمی بھی شریک نہیں ہوئے تھے۔ بلکہ ان کی تعداد تیس تک بھی نہیں پہنچتی ۔ جیسا کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے صحیح سند کے ساتھ اپنی مسند میں محمد بن سرین رحمہم اللہ سے نقل فرمایا ہے ۔ اور امام عبدالرزاق رحمہ اللہ نے اپنی ’’المصنف ‘‘ میں درج کیا ہے اور حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ کی کتاب ’’البدایہ والنہایہ ‘‘ میں لکھا ہے ۔