کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 366
اور ہر وہ مومن ، موحد مسلمان کہ جس نے حالت ایمان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور وہ آپ پر پختہ ایمان لایا اور اسی حالت ایمان میں اس کی وفات (یا شہادت واقع) ہوئی تو وہ صحابہ کرام میں شمار ہوا۔ اگرچہ اس کی مصاحبت ایک سال ، ایک ماہ ، یا ایک دن ، یا پہر اور ایک گھڑ ی تک ہی رہی ہو۔ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کہ جنہوں نے صلح حدیبیہ کے موقع پر درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر موت کی بیعت کی تھی ان میں سے کوئی بھی صحابی جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔ بلکہ اللہ عزوجل ان سے راضی ہو گیا اور وہ اُس سے راضی ہو گئے۔ اور ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعداد چودہ سے سے زیادہ تھی۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے؛سیّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ بَایَعَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ)) ’’ان اصحاب میں سے کوئی بھی جہنم میں نہیں جائے گا کہ جس نے حدیبیہ کے مقام پر درخت کے نیچے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر) بیعت کی تھی۔ ‘‘[1]
[1] جامع الترمذی،کتاب المناقب ، باب فی فضل من بایع تحت الشجرۃ ، حدیث: ۳۸۶۰ وصححہ الترمذی والالباني رحمہما اللّٰہ ۔ ومسند الامام أحمد:۳؍۳۵۰۔سیدنا زید بن حارثہ کی زوجہ ام مبشر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ شَھِدَ بَدْرًا وَالْحُدَیْبِیَۃَ )) ’’ میرے صحابہ میں سے کوئی بھی جہنم میں داخل نہیں ہوگا جو بھی ان میں سے غزوہ ٔبدر اور صلح حدیبیہ میں شریک ہوا۔‘‘ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کرنے کے لیے سوال کیا: اللہ عزوجل نے کیا قرآن میں یوں نہیں فرمایا: ﴿وَ اِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاo﴾ (مریم:۷۱) ’’اور تم میں سے کوئی ایسا نہیں جو دوزخ میں نہ جائے (یا دوزخ پر سے نہ گزرے) یہ تو تیرے رب پر لازم ہے اس نے فیصلہ کر لیا ہے ۔‘‘تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رکیے ذرا ۔ (اور اللہ کے اگلے فرمان کو بھی پڑھ لیجیے ، فرمایا:) ﴿ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْھَا جِثِیًّاo﴾ (مریم:۷۲) ’’پھر جو پرہیز گار ہیں (شرک اور کفر سے بچے رہے) ان کو تو ہم دوزخ سے نکال لیں گے اور کافروں کو اسی میں گھٹنوں کے بل پڑا رہنے دیں گے ۔ ‘‘ (دیکھیے : مسند الامام احمد : ۶؍۳۶۲ وھو صحیح )