کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 365
بھی فرمائی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَللّٰہَ اَللّٰہَ فِیْ أَصْحَابِیْ لَا تَتَّخِذُوْھُمُ غَرَضًا بَعْدِیْ، فَمَنْ أَحَبَّھُمْ فَبِحُبِّی أَحَبَّھُم ، ومَنْ أبْغَضَھُمْ فَبِبُغْضِیْ أبْغَضَھُمْ، وَمَنْ آذاھُمْ فَقَدْ آذَانِی، ومَنْ آذَانِی فَقَد آذَی اللّٰہَ، وَمَنْ آذَی اللّٰہَ یُوشِکُ أَنْ یَأخُذَہُ)) ’’اللہ سے ڈرو ! میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو! میرے بعد ان کو ہدف ملامت نہ ٹھہرانا۔ جس نے ان سے محبت کی اُس نے ان کے ساتھ میری محبت کی وجہ سے محبت رکھی۔ اور جس نے ان سے عداوت کی اُس نے ان کے ساتھ میری ہی عداوت کی نظر سے عداوت کی۔ (یعنی ان کے ساتھ جس نے عداوت رکھی وہ جان لے کہ میری اس سے عداوت ہوگی۔) اور جس نے ان کو ایذا پہنچائی اس نے گویا مجھے ایذا دی۔ اور جس نے مجھے ایذا پہنچائی اس نے اللہ کو ایذا پہنچائی۔ اور (جان رکھو کہ) کہ جس نے اللہ تبارک و تعالیٰ کو ایذا پہنچائی اس کو اللہ تعالیٰ ضرور عذاب میں پکڑلے گا۔‘‘[1]
[1] صحیح سنن الترمذی : للالبانی، کتاب المناقب ، باب فیمن سبّ اصحاب النبی صلي الله عليه وسلم حدیث:۳۸۶۲۔