کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 363
والی زندگی گزارنے کا شرف تھا۔ (یعنی یہ حضرات اس لیے ساری امت سے ممتاز ہیں کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کو بار بار دیکھنے کا شرف بھی حاصل ہوتا اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشیوں ، غموں ، دکھوں اور جہاد فی سبیل اللہ میں شرکت کا پورا موقع بھی ملتا تھا۔ اور وہ حضرات دین حنیف ، قرآن و سنت کو براہِ راست آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھتے تھے۔)
اشرف الخلائق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ، اللہ عزوجل اور اس کے محبوب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے طرف سے عادل قرار دینے کی بنا پر سب کے سب عادل تھے۔ یہ تمام حضرات اللہ تبارک و تعالیٰ کے ولی (دوست) اور اس کے اصفیاء (منتخب شدہ لوگ) تھے۔ سب کے سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اللہ رب العالمین کی سب مخلوقات میں انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد سب سے بہتر تھے اور وہ اس اُمت کے اپنے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد افضل ترین لوگ تھے۔ ان کے بارے میں اللہ عزوجل کا ارشاد گرامی ہے :
﴿وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾ (التوبہ:۱۰۰)
’’اور مہاجرین و انصار میں سے جن لوگوں نے اول ہجرت کی اور پہلے اسلام لائے اور جنھوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے (اللہ ان سے خوش اور وہ اللہ سے خوش) اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جنتیں تیار کر رکھی ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ [1]
[1] بعض اعراب (گنواروں ) کا اخلاص اور ان کو رحمت کی خوش خبری سنانے کے بعد ان سے اعلیٰ مراتبہ کے لوگوں کی طرف اشارہ فرمایا۔ یعنی جہاجرین اور انصار جنہوں نے ہجرت و نصرت دین میں پہل کی۔ ان کی تعیین میں مفسرین سے مختلف اقوال منقول ہیں ۔ سیّدناابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اول سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی اور بعض نے بیعتِ رضوان( صلح حدیبیہ) میں شامل ہونے والے اور بعض نے بدری صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین مراد لیے ہیں ۔ اور انصار سے مراد وہ لوگ ہیں جو بیعت عقبہ ( اول و ثانیہ) میں شریک ہوئے اور پھر وہ لوگ جو مدینہ منورہ میں جناب مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی آمد پر مسلمان ہوگئے تھے۔ مگر ہجرت و نصرت کے اعتبار سے درجہ بدرجہ سبھی صحابہ مراد لیے جاسکتے ہیں ۔ پھر صحابہ میں سب سے افضل خلیفۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا درجہ ہے، جو اسلام میں بھی اوّل ہیں اور ہجرت میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں ۔ پھر بالترتیب دوسرے خلفاء کے درجے ہیں ۔ ان کے بعد باقی عشرہ مبشرہ کہ جن میں طلحہ ، زبیر رضی اللہ عنہ ، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید، عبدالرحمن بن عوف اور ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم شامل ہیں ۔ پھر بدری عقبی صحابہ کا درجہ ہے اور ان کے بعد وہ جو بیعتِ رضوان میں شریک ہوئے۔ صحابہ کی فضیلت کی اس ترتیب میں اہلِ السنۃ والجماعۃ تقریباً متفق ہیں ۔ گو بعض علماء حضرت علی رضی اللہ عنہ کی افضلیت کے بھی قائل ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد ہجرت کی تھی۔ (ابن کثیر و رازی)
نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں سے مراد وہ صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں جو بعد میں ایمان لائے اور ہجرت بھی کی۔ جیسا کہ سورہ انفال کی آیت ۷۵ میں مہاجرین اور انصار کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا: وَالَّذِیْنَ آمَنُوْ مِنْ بَعْدُ وَھَاجَرُوْا کہ جو ان کے بعد ایمان لائے اور پھر ہجرت بھی کی۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ سے قیامت تک کے وہ تمام مسلمان مراد ہوں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نقش قدم پر ہیں اور ان کے قول و عمل میں احسان پایا جاتا ہے۔ بہر حال ان سے اصطلاحی تابعین ہی مراد نہیں ہیں ۔چونکہ رضائے الٰہی کے حصول اور جنت میں داخل ہونیکی خوشخبری جس علت پر مترتب ہو رہی ہے وہ دائمی ہے۔ یعنی ہجرت و نصرت میں پہل، اس لیے یہ بشارت بھی دائمی ہے۔ لہٰذا ان صحابہ میں سے العیاذ باللہ کسی ایک کے متعلق بھی ارتداد کا تصور تک نہیں ہو سکتا۔ پھر کتنے بد بخت اور لعنتی ہیں وہ لوگ جو ان حضرات کے خلاف عموماً اور ان میں سے افضل ترین ، ہستیوں اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے خلاف خصوصاً زبان درازی، سبّ و شتم اور تبرابازی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں اور ان کو برے القاب سے یاد کرتے ہیں ۔