کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 358
(اور ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) تمہارے اوپر کچھ ایسے امراء مقرر کیے جائیں گے جن کے تم اچھے کام بھی دیکھو گے اور برے کام بھی۔ چنانچہ جو کوئی برے کام کو برا جانے (برائی سے نفرت کرے) وہ گناہ سے بری ہو گیا۔ اور جس نے برائی کا انکار کیا تو وہ محفوظ ہو گیا۔ لیکن جو آدمی برائی پر راضی ہو گیا اور اس کی اس نے پیروی کی (تووہ تباہ و بربادہو گیا۔) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم ان سے مقاتلہ نہ کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نہیں۔ جب تک وہ نمازپڑھتے رہیں۔ ‘‘[1]
[1] ( راوہ مسلم ، کتاب الامارۃ، باب خیار الآئمۃ وشرارھم/ حدیث :۴۸۰۴،۴۸۰۱۔) امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ کی کتاب ’’الاحکام السلطانیہ‘‘ (ص۲۳) میں اس موضوع پر نہایت شاندار تحریر موجود ہے ۔ بالخصوص امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی گفتگو ۔ اسی طرح حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری جلد ۱۳ ،ص ۹ پر غلبہ حاصل کرنے والے سلطان کی اطاعت کے جواب پر فقہاء کا اجماع نقل کیا ہے اور یہ کہ اس کے ساتھ مل کر جہاد کیا جائے ۔ اور اس کی اطاعت اس کے خلاف خروج سے بہتر ہے ۔ اسی طرح منہاج السنہ میں (جلد۲۲، ص ۲۴۱ پر) امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی اس موضوع پر نہایت شاندار بات کی ہے ۔ البتہ وہ حکام المسلمین کہ جو اللہ کی شریعت کو معطل کردیں ، اس کے مطابق فیصلے نہ کریں بلکہ شریعت مطہرہ ، اسلام کے علاوہ کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کریں تو یہ لوگ مسلمانوں کی اطاعت سے خارج ہوں گے ۔ ان کی اطاعت مسلمانوں پر واجب نہیں ہوگی ۔ اس لیے کہ انہوں نے امامت و امارت کے مقاصد کو ہی ضائع کر دیا کہ جن کی خاطر ان کو امیر بنایا گیا ہو اور وہ عدم خروج اور سمع و اطاعت کے مستحق ہوئے ہوں ۔ اور یہ کہ وہ دین حنیف کی محافظت اور اس کے نشرو اشاعت ، احکام اسلام کی تنفیذ اور ملت میں رخنہ اندازی سے محافظت اور ان لوگوں سے جہاد کرنا کہ جو دعوت حق ملنے کے باوجود اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی رکھیں جیسے اسلام اور مسلمانوں کے امور کے قیام کے وہ مستحق بنے ہوں ۔ چنانچہ اگر وہ دین حنیف ، اسلام کی محافظت نہیں کرتے یا مسلمانوں کے اُمور کے قیام میں اپنا فرض ادا نہیں کرتے تو ایسے شخص سے امامت و امارت المسلمین کا حق زائل ہو جاتا ہے اور امت کے اہل حق و عقد پر واجب ہو جاتا ہے کہ وہ ایسے شخص کو حکومت و امارت کے حق سے دستربردار کرکے ایسے کسی شخص کو امیر اور حاکم مقرر کریں جو امت کے مقاصد کی تحقیق کا قیام کرے ۔
پس اہل السنۃ والجماعۃ صرف ظلم واستبداد کی بنیاد پر اپنے آئمۃ المسلمین ، حکام پر خروج کو جائز قرار نہیں دیتے بلکہ وہ ایسے امام المسلمین کا قصد رکھتے ہیں جو اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے کرے ۔ اس لیے کہ امارت وامامۃ المسلمین وہی ہوتی ہے کہ جو اقامت دین کا فریضہ سر انجام دے ۔ منہاج السنۃ میں (جلد ۱ ، ص ۱۴۶پر) امیر المومنین سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کا ایک قول نہایت شاند ار درج ہے ۔ وہاں سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔