کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 355
موت واقعی ہو گئی مگر یہ ہے کہ وہ جاہلیت کی موت مرا۔ ‘‘[1]
چنانچہ اہل السنۃ والجماعۃ سلفی جماعت حقہ اہل الحدیث کہتے ہیں کہ :اُصول عقیدہ میں سے ایک اصل عظیم نیکی (خیر ، بھلائی) کے کام میں ولی امر المسلمین ، امیر المومنین کی اطاعت بھی لازم ہے۔ اس اہم اصل کو آئمہ سلف صالحین نے تمام عقائد کے ضمن میں درج فرمایا ہے۔ اور عقائد کی کتابوں میں سے کوئی ہی کتاب ایسی ہوگی جو اس موضوع سے خالی ہو مگر یہ ہے کہ کم و بیش ہر کتاب نے اس موضوع کی مکمل رپورٹ، اس کی شرح اور اس کے بیان کو اپنے اندر ضرور سمویا ہے۔ اور مسلمانوں کے اولیاء الامور کی اطاعت والی اصل ہر مسلمان کے لیے ایک شرعی فریضہ ہے۔ اس لیے کہ اسلامی حکومت و سلطنت میں درستگی کے وجود کے لیے (یعنی حکومت کے معاملات نہایت مرتب اور منضبط ہونے کے اعتبار سے) یہ اصل عظیم ایک بنیادی معاملہ ہے۔
اور اہل السنۃ والجماعۃ سلفی جماعت حقہ کے لوگ اس بات کی رائے رکھتے ہیں کہ:تمام نمازیں ، خطبات و نماز جمعہ اور عیدین مسلمانوں کے امراء و حکام اور اولیاء الامور کے پیچھے ہی ہونے چاہئیں (اور جہاں وہ ان کا اہتمام نہ کر سکتے ہوں وہاں وہ اپنے نمائندے امام مقرر کریں۔) اسی طرح امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور جہاد فی سبیل اللہ اور حج کی ادائیگی بھی انہیں کے ساتھ ہو ، چاہے وہ نیک ، صالح ہو ں یا فاجر و فاسق اور گنہگار۔ اور ان کے لیے اصلاح و استقامت کی دعا کی جائے۔[2] اسی طرح اگر اُن کا ظاہر
[1] رواہ مسلم ، کتاب الامارہ ، باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین … حدیث: ۴۷۸۵ وحدیث نمبر ۴۷۹۱۔
[2] مسلمانوں کے اولیاء الامور ، صالح حکام و امراء کے لیے ۔ اصلاح و استقامت اور ہدایت کی دعا کرنا… سلف صالحین کا طریقہ رہا ہے ۔ امام فضیل بن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اگر میرے لیے کسی دعا کی قبولیت اللہ عزوجل کی طرف سے منظور ہو چکی ہوتی تو میں اسے صرف صالح سلطان کے لیے ہی مانگتا ۔ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم ان کے لیے اصلاح کی دعا کریں ، ہمیں ان پر بد دعا کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ، اگرچہ وہ ظلم و زیادتی ہی کیوں نہ کریں ۔ اس لیے کہ ان کے ظلم و استبداد کا وبال انہیں پر پڑے گا جبکہ ان کی اصلاح ان کے اپنے لیے بھی ہوگی اور تمام مسلمانوں کے لیے بھی ۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اللہ آپ کو معاف فرمائے !اس بات کو جان لو کہ ؛ بادشاہوں کا ظلم اللہ کی سزاؤں میں سے ایک بدلہ ہوتا ہے اور اللہ کی سزاؤں کا سامنا تلواروں سے نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ ان سے دعا ، توبہ ، اللہ کی طرف رجوع اور گناہوں سے دور ہوجانے کے ذریعے بچا جا سکتا ہے۔ بلاشبہ اللہ کی سزا کا مقابلہ جب تم تلوار سے کرو گے تو یہ سزا مزید کاٹ دار اور نقصان دہ ہو جائے گی ۔ (دیکھیے:ابن الجوزی کی : آداب الحسن البصری ،ص:۱۱۹) ۔