کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 350
مسئلہ کو راجح قرار دینا ممکن نہ ہو تو اُس پر ایک عام مسلمان کا اطلاق ہو گا اور اس صورت میں وہ اہل علم سے دریافت کرے۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایک عام مسلمان کہ جو کسی دلیل میں کسی طرح کی فکر و نظر نہ رکھتا ہوں اس کا مطلوب مسئلہ میں کوئی مذہب نہیں ہوگا۔ بلکہ اُس کا اس مسئلہ میں مذہب و مسلک اور موقف اسے فتوی دینے والے مفتی صاحب کا مذہب و مسلک شمار ہوگا۔ لہٰذا اس پر واجب ہے کہ وہ قرآن و سنت کا خوب علم رکھنے والوں سے دریافت کرے۔ جیساکہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں : ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِمْ ۚ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴿٤٣﴾ بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ﴾ (النحل:۴۳۔۴۴) ’’(اے ہمارے محبوب نبی!) ہم نے تجھ سے پہلے (بھی) مردوں کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا۔ ان کو وحی بھیجتے رہے کہ (لوگو) اگر تم نہیں جانتے تو کتاب والوں (یہود و نصاریٰ) کے عالموں سے پوچھ لو (اور ان پیغمبروں کو) معجزے اور کتابیں اور دیکر بھیجا اور (اے پیغمبر) اسی طرح ہم نے تجھ پر قرآن اتارا اس لیے کہ تو لوگوں کو سمجھا دے (کھول کر بتا دے) جو ان کی طرف اترا تاکہ وہ خود بھی غور کریں۔‘‘ [1]
[1] یعنی وہ تمہیں بتائیں گے کہ دنیا میں جتنے پیغمبر آئے سب کے سب بشر تھے فرشتے یا کسی دوسری مخلوق سے نہ تھے۔ بعض مقلد حضرات اس آیت سے تقلید کے جائز ہونے پر استدلال کرتے ہیں حالانکہ آیت کے سیاق و سباق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کے مخاطب مشرکین ہیں ۔ اور ’’ اہل الذکر‘‘ سے مراد اہل کتاب ہیں اور آیت میں ایک خاص اعتراض کے حل میں ان کی طرف رجوع کا حکم دیا جا رہا ہے۔ اگر آیت کو عام بھی سمجھ لیا جائے تو بھی عام مسلمانوں کو حکم دیا جا رہا ہے۔ کہ اپنے علما سے کتاب و سنت کا حکم معلوم کریں نہ کہ کسی خاص امام کے مسئلے دریافت کریں ۔ اس آیت میں ’’ الذکر‘‘ یعنی قران کے نازل کرنے کا مقصد یہ بیان فرمایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قول و عمل سے اس کی توضیح و تشریح فرمائیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توضیحات کو سامنے رکھے بغیر قران کے مجملات کو سمجھنا ممکن ہی نہیں ہے۔ مثلا نماز، زکوٰۃ اور دیگر احکام۔ اسی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اَ لَا اِنّیْ اُوْتِیْتُ الْقُرْاٰنَ و َمِثْلَہٗ مَعَہٗ…کہ خبر دار ! مجھے قرآن اور اس جیسی ایک اور چیز یعنی سنت دی گئی ہے۔ پس قران سے ہدایت حاصل کرنے کے لیے سنت سے بے نیازی اس آیت کی صریح خلاف ورزی ہے۔