کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 349
[1] اور طالب علم کے پاس جب اس بات کی اہلیت و استطاعت ہو کہ وہ آئمہ کرام کے دلائل کو جان سکے (کہ وہ قرآن و سنت کے مطابق ہیں) تو وہ ان پر عمل کرے۔ اور کسی بھی مسئلہ میں وہ ایک امام کے مسلک سے نکل کر دوسرے امام کے مسلک میں منتقل ہو جائے۔ مگر یہ ہے کہ دوسرے امام کا مسلک دلیل کے طور پر زیادہ مضبوط ہو اور تفقہ فی الدین کے طور پر کسی دوسرے مسئلہ میں زیادہ راجح ہو۔ بغیر دلیل کو جانے کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہے کہ وہ کسی بھی عالم یا امام کے قول کولے لے۔ اس لیے کہ اس طرح تو وہ مقلد بن کر رہ جائے گا۔ اور ہر مسلمان پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ اختلاف میں جس طرح نظر و فکر کرنے کی استطاعت رکھتا ہو اسی قدر وہ اپنی صلاحیت کو صرف کرے حتی کہ اس کے ہاں کوئی ایک بات راجح ہو جائے۔ اور اگر اُس کے لیے کسی بات اور کسی
[1] ( میں ہی ہے ۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دین حنیف کے تمام مسائل میں کسی بھی مسئلہ کے اندر کسی خاص شخص کی تقلید نہیں کرتے تھے ۔ بلکہ وہ صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کیا کرتے تھے ۔ اسی طرح آئمہ اربعہ …امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت ، امام احمد بن حنبل ، امام مالک بن انس اور امام محمد بن ادریس الشافعی رحمہم اللہ جمیعًا ۔ کی حالت تھی ۔ وہ بھی اپنی آراء و قیاس پر تعصب سے کام نہیں لیتے تھے ۔ بلکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارک کا علم آجانے کے بعد اپنی رائے ، اجتہاد و قیاس کو چھوڑ دیا کرتے تھے ۔ اور دوسرے لوگوں کو ان کے اقوال پر دلائل کو جانے بغیر کہ اس قول کی دلیل کیا قرآن و سنت سے بھی ملتی ہے ؟ اپنی تقلید سے منع کیا کرتے تھے ۔ چنانچہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا: اِذَا صَحَّ الْحَدِیْثُ فَھُوَ مَذْھَبِیْ ’’جب کوئی صحیح حدیث معلوم ہو جائے تو یہی میرا مذہب ہے ۔ ‘‘ اور آپ نے یہ بھی فرمایا : کسی شخص کے لیے بھی جائز نہیں ہے کہ وہ ہماری بات کو لے لے جب تک کہ وہ یہ نہ جان لے کہ: ہم نے یہ بات ، قول ، رائے کہاں سے لی ہے ؟ (یعنی قرآن سے یا حدیث سے ۔ ) اور امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’ میں ایک بشر ہوں ، میں غلطی بھی کرتا ہوں اور درست فیصلہ بھی کر لیتا ہوں ۔ پس میری رائے کے بارے میں دیکھ لیا کرو ۔ قرآن و سنت کے مطابق ہے تو قبول کر لو ، ورنہ چھوڑ دو ۔ ‘‘ امام محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ :’’ ہر وہ مسئلہ کہ جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح خبر (مرفو ع حدیث) اہل حدیث و محدثین کے ہاں اُس کے خلاف مل جائے جو میں نے کہا ہو تو اپنی زندگی میں اس سے میں رجوع کر وں گا اور میری وفات کے بعد بھی اس سے میرا رجوع ہی سمجھا جائے ۔‘‘ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں : (ایک پوچھنے والے سے فرمایا) : نہ میری تقلید کرو ، نہ امام مالک کی تقلید کرو۔ نہ امام شافعی کی ، نہ امام اوزاعی کی اور نہ ہی امام ثوری رحمہم اللہ کی ۔ بلکہ تم بھی مسئلہ کو وہیں سے لو (یعنی قرآن و سنت سے ) کہ جہاں سے انہوں نے لیا ہے ۔ ‘‘ آئمہ کرام رحمہم اللہ جمیعًا کے اقوال اس باب میں بہت زیادہ ہیں ۔ اس لیے کہ وہ اللہ عزوجل کے درج ذیل فرمان کا معنی خوب سمجھتے تھے : ﴿اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئَ قَلِیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ﴾ (الاعراف:۳) ’’(لوگو) جو تمہارے مالک کی طرف سے تم پر اترا (یعنی قرآن و حدیث) اُس کی پیروی کرو اور اس کے (یعنی اللہ کے یا قرآن و حدیث کے ) سوا دوسرے چہیتے اولیاء (اماموں ) کی پیروی مت کرو۔ تم بہت کم نصیحت لیتے ہو ۔ ‘‘