کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 348
[1]کتاب و سنت کا ہے۔)
مسلمان آدمی پر لازم ہے کہ قرآن و سنت اور اجماع صحابہ والی مضبوط دلیل کی بنیاد پر وہ ایک موقف و مسلک سے دوسرے موقف و مسلک کی طرف منتقل ہو جائے۔
[1] ( اور حدیث مرفوع کی ہے ۔ ) یا اس کا معنی ہے کہ کہنے والے کی بات کی دلیل کو بالکل جانے بغیر قبول کر لینا تقلید ہے ۔ یا اس کا مفہوم یہ بھی ہے کہ: کسی قول کی طرف خواہ مخواہ رجوع کر لینا کہ جس پر کہنے والے کے پاس کوئی دلیل نہ ہو۔
اور مقلد: وہ شخص ہوتا ہے جو کسی معین شخص کی تقلید کرے ۔ اور اُس کے تمام اقوال و افعال میں اُ س کی اتباع کرے ۔ اور یہ دیکھے ہی نہیں کہ عین ممکن ہے حق اس کے برعکس ہو ۔ اور اس کہنے والے کی بات کی دلیل کو جانے بغیر ہی اس کی اتباع کرنے لگ جائے اور اس کے اقوال سے باہر نکلے ہی نہیں ۔ اگرچہ اس کے خلاف قرآن وسنت سے ثابت ہی کیوں نہ ہو جائے ۔ اور اہل علم کے ہاں اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ :’’تقلید علم نہیں ہے۔ اور یہ کہ مقلد پر عالم کے نام کا اطلاق نہیں ہوتا ۔ ‘‘
اور اللہ عزوجل نے بہت ساری آیات کریمہ میں تقلید سے منع فرماتے ہوئے اس کی مذمت فرمائی ہے ۔ چنانچہ فرمایا: ﴿وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَ اِلَی الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْہِ اٰبَآئَ نَا اَوَ لَوْ کَانَ اٰبَآؤُھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَھْتَدُوْنَ o ﴾ (المائدہ:۱۰۴)’’اور جب ان سے ( یعنی ان کافروں سے ) کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو اتارا ( یعنی قرآن شریف) اس کی اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آ جاؤ (یعنی قرآن و حدیث پر عمل کرو) تو کہتے ہیں ہم کو تو وہی طریق بس کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا۔ بھلا اگر ان کے باپ دادے نرے بے علم اور گمراہ ہوں ( تب بھی یہ انہیں کی پیروی کریں گے ۔) ‘‘
اس آیت میں روئے سخن کو مشرکین اہل عرب کی طرف ہے مگر آیت اپنے عموم کے اعتبار سے تمام ان لوگوں کی مذمت کر رہی ہے جو نظر و استدلال اور حق سے اعراض کر کے اپنے باپ دادا کے رسم و رواج یا مذہبی پیشواؤں کی اندھا دھند تقلید کر رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی آیات میں ایسے لوگوں کی مذمت کی ہے ۔
آج کل کے اہل بدعت کا بھی یہی حال ہے کہ کتاب و سنت کی بجائے آباؤ اجداد کی رسوم کو سند سمجھتے ہیں ۔ بقول ابنِ عباس رضی اللہ عنہ یہ آیت گو یہود کے حق میں نازل ہوئی ہے مگر اس میں ان تمام لوگوں کی سخت مذمت کی گئی ہے جو اپنے مذہبی پیشواؤں کے اقوال پر کسی نظرو استدلال کے بغیر چلے جا رہے ہیں ۔ چونکہ تقلید کی تعریف بھی یہی ہے کہ کسی دوسرے کی بات کو اس کی دلیل معلوم کئے بغیر قبول کر لیا جائے۔ اس لئے جو لوگ ائمہ کے مسائل قیاسیہ کو ان کی دلیل معلوم کئے بغیر واجب العمل سمجھتے ہیں انہیں سوچنا چاہئے کہ آیا وہ بھی اس مذمت کے تحت تو کہیں نہیں آرہے ۔
علماء سلف صالحین اور تمام کے تمام آئمہ مجتہدین نے تقلید سے منع فرمایا ہے ۔ اس لیے کہ تقلید اہل اسلام کے درمیان جھگڑا کھڑا کرنے اور کمزوری پیدا کرنے کا ذریعہ ہے ۔ جبکہ خیر اور بھلائی تو یک جہتی ، اتحاد ، قرآن و سنت کی اتباع اور اختلاف کے وقت اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرنے (