کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 345
یہ اہل السنۃ والجماعہ سلفی لوگ اس بات کاخوب علم رکھتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین سے پیش قدمی کرنا ، اللہ عزوجل پر بغیر علم کے کسی بات کو ٹھونسنے کے مترادف ہے کہ جو شیطان کی طرف سے نری ملمع سازی ہوتی ہے۔[1] اور عقل صریح ان اہل السنۃ والجماعۃ کے ہاں نقل صحیح (قرآن و حدیث اور سنت) کے موافق و مطابق ہوا کرتی ہے۔ اور اشکال کے وقت یہ حضرات نقل (قرآن و حدیث) کو مقدم رکھتے ہیں نہ کہ اشکال کو۔ اس لیے کہ نقل (قرآن و سنت سے ماخوذ نص صریح) اس چیز کو پیش نہیں کرتی کہ جس کا قبول کرنا عقل کے لیے محال و ناممکن ہو۔ بلکہ بلاشبہ قرآن و سنت کی نص (نقل) اس چیز کو پیش کرتی ہے کہ جس میں عقلیں (نص صریح کو سمجھ لینے کے بعد) حیران و ششدرہ رہ جائیں۔ (کہ ہیں ! اتنی بڑی حقیقت ؟) اور یہ کہ عقل اس نقل کی ہر اس بات میں علم و معرفت اور حقیقت کی بنیاد پر تصدیق کرتی ہے کہ جس کی خبر اس نے دی ہو ، نہ کہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔
اہل السنۃ والجماعۃ سلفی جماعت حقہ کے یہ اہل ایمان واسلام عقل کی شان اور اس کے مرتبہ کو کم نہیں کرتے۔ ان کے ہاں عقل …مسلمانوں پر عائد ذمہ داریوں کی علت ہے۔ (یعنی ان پر اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طر ف سے عائد احکام اور اوامر و نواھی
[1] ﴿الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْ اٰیٰتِ اللّٰہِ بِغَیْرِ سُلْطَانٍ اَتَاہُمْ کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰہِ وَعِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ط کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ قَلْبِ مُتَکَبِّرٍ جَبَّارٍ o ﴾ (المومن:۳۵)’’وہ لوگ جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور ایمان والوں کے نزدیک ان کے یہ جھگڑے بہت برے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہر متکبر کے دل پر اسی طرح مہر لگا دیتا ہے۔ ‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ گمراہی میں انہی لوگوں کو مبتلا کر تا ہے جن میں تین بری خصلتیں پائی جاتی ہیں ۔ ایک ’’ مسرف ‘‘ یعنی جو اپنی بد اعمالی یا کسی شخص کی عقیدت میں حد سے بڑھنے والے ہوں ۔ دوسرے ’’مرتاب‘‘ یعنی اللہ کی آیات اور اس کے رسولوں کی کہی ہوئی باتوں میں شک کرنے والے ہوں اور تیسرے’’جدال بالباطل‘‘ یعنی قرآن و حدیث پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی بجائے ان میں کج بحثیاں کرتے ہوں اور تکبر سے کام لیتے ہوں ۔
یعنی جب کوئی شخص تکبر و غرور میں حد سے گزر جاتا ہے اور کوئی صحیح بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا تو اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے ۔ پھر اسراف و ارتیاب کے کام اس سے صادر ہوتے رہتے ہیں اور کوئی صحیح بات اور نصیحت اس پر اثر نہیں کرتی۔