کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 331
[1]نہیں سکتیں یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ [2]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((اِنَّ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ قَالَ:مَنَ عَادَیٰ لِی وَلِیاَّ فَقَدْ آذَنُتہُ بِالَحْربِ))
[1] (اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اولیاء الرحمن کی صفات کا تذکرہ اپنی بہت ساری احادیث مبارکہ میں فرمایاہے۔ برسبیل مثال (احادیث مبارکہ میں مذکور) ان صفات میں سے: (۱)… ان اولیاء اللہ کا ایمان ویقین محکم اپنے اللہ رب العزت پر ، اس کے فرشتوں ، اس کے رسولوں ، اس کی کتابوں ، یوم آخرت او ر قضاء وقدر کے اچھا اور برا ہونے پر بہت مضبوط ہوا کرتا ہے ۔
(۲)…ان کے دلوں میں اللہ کا تقویٰ …یعنی اللہ خوف بہت زیادہ ہوا کرتا ہے ۔ (۳)…اپنے نبی کی سنت پر مضبوطی سے عمل کیا کرتے ہیں ۔ (۴)…اولیاء اللہ اپنے رب سے ملاقات کے دن کی تیاری نہایت دلجمعی سے کیا کرتے ہیں ۔ (۵) … لوگوں سے ان کی محبت بھی اللہ کے لیے اور بغض وعداوت بھی اللہ ہی کے لیے ہوا کرتی ہے ۔ (۶)…ان اولیاء الرحمن کو دیکھ کر اللہ کی یاد تازہ ہوجایا کرتی ہے ۔ (۷)…یہ اولیاء اللہ رب کائنات کی زمین پر نہایت عاجزی والی باوقار چال سے چلا کرتے ہیں ۔ (۸) …اور جب جاہل لوگ ان سے مخاطب ہوں تو ان کو سلام کرکے گزر جایا کرتے ہیں ۔ (۹)…اور یہ اللہ کے دوست اپنی راتیں اپنے رب کے سامنے سجدہ اور قیام (نماز و اذکار) کی حالت میں گزارا کرتے ہیں ۔ اور دعا مانگتے ہوئے کہا کرتے ہیں : اے ہمارے رب کریم ! جہنم کے عذاب کو ہم سے پھیر دے ۔ (۱۰)…اور جب وہ خرچ کرتے ہیں تو نہ ہی اسراف و تبذیر سے کام لیتے ہیں اور نہ ہی بخیلی سے کام لیا کرتے ہیں ۔ (۱۱)…اور نہ ہی یہ اہل ایمان اولیاء اللہ اپنے رب کریم اللہ ذوالجلال والاکرام کے ساتھ کسی اور کو بطور اللہ پکارا کرتے ہیں ۔ (۱۲)… اور نہ ہی یہ اللہ کے دوست کسی جان کو ناحق قتل کیا کرتے ہیں کہ جس کا قتل کرنا اللہ نے حرام کر رکھا ہو ۔ (۱۳) … نہ ہی یہ زنا کرتے ہیں ، نہ ہی جھوٹی گواہی دیتے ہیں ۔ (۱۴)…اور جب کبھی یہ کسی بیہودہ و فحش کام کی طرف آنکلیں (اتفاق سے ان کا گزر وہاں سے ہو جائے ) تو باعزت طور پر وہاں سے گزر جاتے ہیں ۔ علاوہ ازیں کتاب و سنت میں اولیاء الرحمن کی دیگر بہت ساری صفات بھی مذکور ہیں جن کا احاطہ یہاں طوالت مضمون کے خدشہ سے ممکن نہیں ۔
[2] یعنی انہوں نے قرآن وسنت کے مطابق اپنے اعتقاد کو درست کیا ۔ پرہیزگاری اختیار کرنے کا مطلب ہے کہ وہ نیک اعمال کرتے اور گناہوں سے بچتے رہے ۔ اوپر کی آیت میں اولیاء اللہ (اللہ کے دوستوں ) کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ انہیں نہ کوئی ڈر ہوگا اور نہ غم ۔ اس آیت میں اولیاء اللہ کی خود تشریح فرما دی اور وہ یہ کہ ان سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا عقیدہ قرآن وسنت کے مطابق درست ہوتا ہے اور جن میں تقویٰ پایاجاتا ہے ۔ معلوم ہوا کہ ہر انسان جو اپنے اندر عقیدہ و عمل کی صحت پیدا کرلے گا وہ اللہ کا ولی ہو سکتا ہے ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ عقیدہ و عمل میں اخلاص کے اعتبار سے لوگوں کے مراتب ہوں گے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ سے ارشاد نبوی منقول ہے کہ ’’اولیاء اللہ ‘‘ وہ ہیں جنہیں دیکھ کر اللہ یاد آئے ۔ (درمنثور) عام لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ جس سے کوئی امر خرق عادت صادر ہو وہ اللہ کا ولی ہوتا ہے جو سراسر غلط ہے ۔ خرق عادت امور تو شیطان سے بھی صاد ر ہوجاتے ہیں ۔
اولیاء اللہ کے لیے آخرت میں بشارت یعنی جنت ہے اور دنیا میں ان کے لیے کئی طرح کی بشارتیں ہیں ۔ ایک بشارت تو قرآن کی متعدد آیات میں یہ دی گئی ہیں کہ ان پر کوئی خوف و غم نہ ہوگا اور انہیں سچے خواب دکھائے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ احادیث میں ہے : ((اَلرُّویَا الصَّادِقَۃُ بُشْرَی الْمُومِن)) کہ سچا خواب مومن کے لیے بشارت ہے ۔ ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں ۔ لوگوں میں قبولیت حاصل ہوتی ہے اور لوگ مدح و ستائش سے ان کا ذکر کرتے ہیں جیسا کہ صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ یہ مدح مومن کے لیے دنیا میں بشارت ہے۔(روح المعانی ۔ شوکانی )