کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 330
[1]لیے دنیا کی زندگی میں بھی خوشی ہے اور آخرت میں بھی اللہ کی باتیں بدل
[1] ( یَزْنُوْنَ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا o یُضَاعَفْ لَہٗ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَیَخْلُدْ فِیْہِ مُہَانًا o اِِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُوْلٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنَاتٍ وَّکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَحِیْمًا o وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِِنَّہٗ یَتُوْبُ اِِلَی اللّٰہِ مَتَابًا o وَالَّذِیْنَ لاَ یَشْہَدُوْنَ الزُّورَ وَاِِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا کِرَامًا o وَالَّذِیْنَ اِِذَا ذُکِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوا عَلَیْہَا صُمًّا وَعُمْیَانًا o وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ ہَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیَّاتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِِمَامًا o اُوْلٰٓئِکَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَۃَ بِمَا صَبَرُوْا وَیُلَقَّوْنَ فِیْہَا تَحِیَّۃً وَّسَلاَمًا o خٰلِدِیْنَ فِیْہَا حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّمُقَامًا o ﴾ (الفرقان:۶۳تا ۷۶)’’اللہ کے نیک بندے (اولیاء اللہ) وہ ہیں جو عاجزی کے ساتھ ( یا آہستگی اور وقار کے ساتھ) زمین پر چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے بھڑ جاتے ہیں تو کہتے ہیں ( اچھا صاحب ) سلام۔ اور جو راتوں کو اپنے مالک کے آگے سجدے اور قیام میں رہتے ہیں ( یعنی شب بیدار تہجد گزار ) اور جویوں دعا مانگے ہیں : اے رب ہمارے دوزخ کا عذاب ہم پر سے ٹال دے۔ کیوں کہ دوزخ کا عذاب ( کافروں اور گہنگاروں کے لیے ) اٹل ہے وہ ( ہر طرح ) بری ہے وہاں تھوڑی دیر رہنا ہو یا ہمیشہ رہنا ہو۔ اور جو خرچ کرتے وقت بیکار ( اپنا پیسہ نہیں اڑاتے اور نہ تنگی کرتے ہیں (کہ ضرورت میں بھی نہ اٹھائیں ) اور بیچ بیچ میں ان کا خرچ رہتا ہے۔ اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے (اسی کی عبادت کرتے ہیں اور جس جان کا مارنا اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اس کو نہیں مارتے مگر حق پر۔ (جیسے خون کے بدلے خون) اور زنا نہیں کرتے۔ اور جو کوئی یہ کام کرے گا تو وہ ـ(اپنے کیے کا ) بدلہ پائے گا اور اس کو قیامت کے دن دونا عذاب ہو گا اور وہ اس میں ذلیل ہو کر ہمیشہ رہے گا۔ مگر جو شخص ( دنیا ہی میں ان گناہوں سے ) توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک کام کرے تو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دے گا۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور جو کوئی گناہ سے توبہ کرے اور نیک کام کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف پورا پھر آتا ہے۔ اور جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے ( یا جھوٹ یا فریب نہیں کرتے) اور جب بیہودہ کام پر آنکلیں ( اتفاق سے اس پر گذر ہو ) تو عزت بچا کر چلدیتے ہیں ۔ اور جن کو ان کے مالک کی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ اندھے بہرے ہو کر ان پر نہیں گرتے ۔ (بلکہ انہیں وہ نہایت غورو فکر سے سنتے اور ان سے متاثر ہوتے ہیں ۔) اور جو یہ دعا کرتے ہیں اے ہمارے رب کریم! ہم کو ایسی بی بیاں اور اولاد عطا فرما جن کی طرف سے ( ہماری ) آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ہم کو پرہیز گاروں کا سردار بنا ۔ اور ان لوگوں کو بہشت کے بالا خانے ان کے صبر کے بدلے میں ملیں گے اور ان کا دعا و سلام سے استقبال کیا جائے گا۔ وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ وہ اچھا ٹھکانا اور بہترین رہنے کا مقام ہے۔