کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 329
[1]لوگ ہیں جو ایمان لائے اور پرہیزگاری اختیار کیا کرتے تھے۔ ان کے
[1] ( چیز نہیں ۔) بلکہ کرامت شرعی اصول و ضوابط کے ساتھ مقید ہے جو تا قیامت اٹل ہیں ، ان میں تبدیلی ناممکنہے۔ اسی طرح کرامت کے لیے کچھ شروط ہیں ، جو درج ذیل ہیں ۔
(ا)… یہ کرامت کسی بھی شرعی حکم اور دینی قاعدہ کو حرام و منع قرار نہ دے ۔ (ب)…زندہ مومن ، صالح مسلمان سے واقع ہو ۔ (ج)…پیچھے بیان کردہ وجوہات واسباب میں سے کسی سبب کے لیے ہو ۔ (یونہی خواہ مخواہ کرامت وقوع پذیر نہیں ہوا کرتی ۔ ) اگر ان شروط میں سے کوئی بھی شرط ساقط ہو جائے تو وہ کرامت نہیں ہوگی ۔ بلکہ یا تو یہ نراخیال ہوگا یا پھر صرف وہم ہوگا اور یا پھر شیطان کی طرف سے القاء۔ اور یہ بات بھی یاد رکھیے کہ: کرامت کے ذریعے شرعی احکام میں سے کوئی نیا حکم ثابت نہیں ہوا کرتا ۔ اورنہ ہی اس کے ساتھ کسی ثابت شدہ شرعی حکم کی نفی ہوا کرتی ہے ۔ اس لیے کہ شرعی احکام کے مصادر قرآن و سنت کی تکمیل نبی مکرم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں ہو چکی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی دین اسلام مکمل ہو گیا تھا ۔ جیساکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورۃ المائدہ کی آیت نمبر:۳ میں ارشاد فرمادیا ہے ۔ اس تکمیل پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع بھی ہو گیا تھا ۔
اولیاء اللہ کے اوصافِ حمیدہ:…اگر اللہ عزوجل اپنے کسی مومن ، مسلمان بندے کے ہاتھوں پر کسی کرامت کو ظاہر کر دے تو (۱)…اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس انعام و اکرام پر اس کا شکر ادا کرے ۔ (ب)…اللہ کریم سے دین حق پر ثابت قدم رہنے کا سوال کرے اور اگر ابتلاء و آزمائش کا دور ہو تو فتنہ میں مبتلا نہ ہونے کی بھی دعا کرے ۔ اور یہ کہ : (ج)…اپنے اس کرامت والے معاملہ کو چھپا کر رکھے اور لوگوں کے سامنے اس کو فخر کرنے کا ذریعہ نہ بنائے ۔ اس لیے کہ یوں اس کو یہ معاملہ ہلاکت و تباہی کی جگہوں میں لا پھینکے گا۔ دنیا میں کتنے ایسے لوگ ہیں کہ جب شیطان نے اس راستے سے ان کو دھوکے میں ڈالا تو انہوں نے اپنی دنیا بھی تباہ کر لی اور اپنی آخرت بھی ۔ چنانچہ ان کے اعمال ان کے لیے وبال بن گئے ۔
جان لیجیے کہ : اللہ الرحمن کے ولیوں (دوستوں ) کی کچھ صفات ہوا کرتی ہیں (جن سے وہ پہچانے جاتے ہیں ۔) اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب قرآن کریم میں بہت ساری آیات میں ان کو بیان فرمایا ہے۔ ایک مقام پر تو ان کو یوں جمع کر دیا گیا ہے ۔ فرمایا: ﴿وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُونَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا وَّاِِذَا خَاطَبَہُمُ الْجَاہِلُوْنَ قَالُوْا سَلاَمًاo وَالَّذِیْنَ یَبِیتُوْنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَّقِیَامًا o وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَہَنَّمَ اِِنَّ عَذَابَہَا کَانَ غَرَامًا o اِِنَّہَا سَائَ تْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًاo وَالَّذِیْنَ اِِذَا اَنفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَلَمْ یَقْتُرُوْا وَکَانَ بَیْنَ ذٰلِکَ قَوَامًا o وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِِلٰہًا آخَرَ وَلاَ یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا (