کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 328
[1]’’سن رکھو جو لوگ اللہ کے ولی (دوست) ہیں نہ ان کو ڈر ہو گا نہ غم۔ یہ وہ
[1] ( سورۃ الکہف اور دیگر سورتوں میں مذکور ہے ۔ اسی طرح ہماری اس ملت ، اُمت محمدیہ علی صاحبہا التحیۃ والسلام کے زمانۂ خیرالقرون، صحابہ کرام اور تابعین و تبع تابعین کے دور مبارک میں ایسا کئی اولیاء اللہ رحمہما اللہ کے ہاتھوں وقوع پذیر ہوتا رہاہے۔ سنن صحیحہ اور آثار منقولہ کی کتب میں صحیح اسناد کے ساتھ منقول بہت ساری کرامتوں کا تذکرہ مندرج ہے کہ جن کے ساتھ اللہ رب العالمین نے اپنی کتاب قرآن حکیم اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے والے اپنے صالح ، موحد ومجاہد بندوں کو عزت بخشی اور اس کے ساتھ اس نے اپنے دین کو قوت عطا فرمائی ۔ یہ روایات ان کتب میں ہزار ہا علماء کرام اور ثقہ راویان عظام رحمہم اللہ جمیعًا سے منقول ہیں کہ جنہوں نے ان کرامات عظیمہ کا خود مشاہدہ کیا تھا ۔ یہ کرامات پورے تسلسل کے ساتھ آج تک امت اسلامیہ ومحمدیہ علی صاحبہا التحیۃ والسلام میں باقی ہیں ۔ یعنی اللہ عزوجل جب چاہے اور اپنے جس موحد ، صالح ، متقی بندے کے ہاتھوں چاہے ان کا ظہور کرتا رہتا ہے اور جب تک اللہ چاہے گا کرامت اس امت میں باقی رہے گی اور ایسا ہوتا رہے گا ۔
اولیاء اللہ کی کرامات کا وقوع پذیر ہونا دراصل انبیاء کرام علیہم السلام کے معجزات کے تابع ہے ۔ اس لیے کہ کسی بھی شخص کو کرامت کا حصول نہیں ہوتا مگر یہ ہے کہ اس کی اپنے نبی کی مکمل اطاعت و فرمانبرداری کی برکت سے اور اس کے اپنے نبی کے دین والے سیدھے راستے اور اس نبی کی شریعت والی راہ پر چلنے کے سبب سے۔ عقلی طور پر کرامت کا تعلق جائز اُمور میں سے ہے ۔
ہمارے سلف صالحین نے کرامت کی ایک تصریح و تعین یوں بھی کی ہے : ’’کتاب و سنت پر استقامت اختیار کرنا، دونوں کی اطاعت اختیار کرتے ہوئے ان کے اوامر و نواھی پر راضی رہنا اور علم و عمل میں توفیق کا مل جانا بھی کرامت ہے ۔ ‘‘ اور یہ کہ بعض اہل ایمان و اسلام سلفی العقیدہ والعمل لوگوں کو کرامت کے عدم حصول کا معنی یہ نہیں ہے کہ ان کا ایمان کمزور تھا ۔ (العیاذ باللہ) جیسا کہ اکثر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے ہاتھوں ایسی کسی بات کا ظہور نہیں ہوا حالانکہ وہ نہایت مضبوط ایمان و عقیدہ اور یقین محکم والے لوگ تھے ۔ اس لیے کہ کرامت اور معجزہ کا اختیار انسان کے اپنے ہاتھ میں قطعاً نہیں ہے ۔ بلکہ یہ معاملہ خالص اللہ عزوجل کے اپنے اختیار میں ہے۔ جیساکہ پیچھے سورۃ الانعام کی آیت ۱۰۹ اور سورۂ غافر کی آیت ۷۸ کے حوالے سے گزرا ۔
کرامت کا ظہور بعض وجوہات واسباب کی خاطر بھی ہوتا ہے جو کہ درج ذیل ہیں :
(۱)…بندے کے ایمان کو مضبوط کرنے کے لیے …جیسے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایمان وعقیدہ اور ان کا یقین محکم تھا ۔ (۲)…دشمنان اسلام پر حجت قائم کرنے کے لیے ۔(۳)…دین حق کی سچائی کے لیے …وغیرھا ۔
کرامت کو عقل کے ساتھ مقید نہیں کیا جا سکتاکہ ہماری عقل نہیں مانتی اس لیے کرامت کو ئی (