کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 327
[1] تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللّٰهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾ (یونس:۶۲تا۶۴)
[1] ( قسم میں داخل ہو اور اگر نہ چاہے تو کسی نبی اور رسول کے لیے بھی اس کا اظہار نا ممکن اور محال رکھے۔ چنانچہ اللہرب العالمین نے اس ضمن میں ایک کلیہ قاعدہ وضع فرما دیا :
﴿وَمَا کَانَ لِرَسُوْلٍ أَنْ یَّاْتِیَ بِآیَۃٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللّٰہِ فَإِذَا جَآئَ أَمْرُ اللّٰہِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَخَسِرَ ھُنَالِکَ الْمُبْطِلُوْنَo ﴾ (سورۃ المؤمن (غافر)آیت :۷۸)’’اور کسی پیغمبر کا مقدور نہ تھا کہ اللہ کے حکم کے بغیر کوئی نشانی(معجزہ)ظاہر کر سکے ۔پھر جب اللہ کا حکم آپہنچا تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا گیا اور اہل باطل نے سراسر خسارہ اٹھایا۔‘‘
دوسرے مقام پر فرمایا:
﴿قُلْ إِنَّمَا الْآ یَاتُ عِنْدَ اللّٰہِ وَمَا یُشْعِرُکُمْ أَنَّھَا إِذَا جَآئَ تْ لَا یُؤْمِنُوْنo﴾(سورۃ الانعام:۱۰۹) ’’(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم )کہہ دیجئے!کہ نشانیاں تو اللہ ہی کے قبضے میں ہیں تو (اے مومنو!)کیا تمہیں معلوم ہے کہ ان کے پاس نشانیاں آبھی جائیں تب بھی ایمان نہ لائیں ۔‘‘(یہ کافر ایسے بد بخت لوگ ہیں ۔)باستفادہ از قصص القرآن للشیخ ؍حفظ الرحمن سیوہا روی جلد اول ص ۱۲۸تا۱۳۳۔
کرامت کی حقیقت: اللہ تبارک و تعالیٰ کے قوانین قدرت اور نوامیس فطرت کی دو اقسام … سنۃ اللّٰہ(عادت عامہ ) اور معجزہ … (یعنی عادت خاصہ ) کے حوالے سے جو پیچھے بات ہوئی ہے ، تو اب یہاں یہ بات بھی جان لیجیے کہ : اللہ تبار ک وتعالیٰ کے قوانین قدرت کی دوسری قسم …عادت خاصہ …کا تعلق اگر اُس کے انبیاء کرام علیہم السلام کے ساتھ ہو تو اُسے شرعی اصطلاح میں ’’معجزہ ‘‘ کہا جاتا ہے اور اگر کسی مومن ، مسلمان، صالح اُمتی کے ساتھ ہو تو اُسے ’’کرامت ‘‘ کہاجاتا ہے ۔ یہ کرامت نہ ہی تو دعوی نبوت کے ساتھ جڑی ہوتی ہے اور نہ ہی نبوت کا پیش خیمہ ہوا کرتی ہے (کہ جس مومن ، صالح ، متقی وموحد اُمتی کے ہاتھ پر کسی کرامت کا ظہور ہو جائے تو اس کے بارے میں یہ سمجھ لیا جائے (یا وہ خود یہ سمجھنے لگے ) کہ اُسے آنے والے وقت میں نبی بنا دیا جائے گا ، ہر گز نہیں ۔ ) ’’کرامت‘‘ کو اللہ عزوجل احکام شریعت کا مکمل التزام کرنے والے اپنے بعض صالح ، موحد اور متقی بندوں کے ہاتھوں پر ظاہر کرتا ہے ۔ ایسا اللہ رب کبریاء اپنے ان بندوں کے اکرام میں کرتا ہے کہ جس سے اُن کو دین حنیف پر عمل میں پیش آنے والے مصائب پر صبر و استقامت میں مدد ملتی ہے اور وہ اپنے دلوں کو مضبوط کرکے شریعت مطہرہ کی اشاعت اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے ڈٹ جایا کرتے ہیں ۔
اگر یہ کرامت ایمان صحیح ، یقین محکم اور قرآن و سنت کے مطابق عمل صالح والے کسی مومن شخص کے ہاتھ سے نہیں بلکہ کسی شرک وخرافات میں ملوث ، شریعت مطہرہ کے احکام میں سست اور دین حنیف کے اوامر و نواھی کے منکر و مخالف کسی آدمی کے ہاتھ سے ظاہر ہو تو پھر یہ کرامت نہیں بلکہ ’’نری دھوکہ دہی اور شعبدہ بازی‘‘ ہوگی۔ صحیح اور اصلی کرامت کا ظہور پہلی امتوں کے اہل ایمان کے ہاتھوں بھی ہوتا رہا ہے ۔ جیساکہ (