کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 326
[1] وَكَانُوا يَتَّقُونَ ﴿٦٣﴾ لَهُمُ الْبُشْرَىٰ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۚ لَا
[1] ( اس کے ساتھ نہ ہوتی۔پس عام قانون قدرت سے جدا کسی پیغمبر کا یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ درحقیقت یہ اس کاپنا فعلنہیں تھا بلکہ یہ اللہ رب العالمین کا کام ہے جو عادتِ خاص کی صورت میں نبی کے ہاتھوں ظہور پذیر ہوا تاکہ اسکی صداقت کی دلیل بن سکے ۔اور اس میں شک نہیں کہ اگر کسی نبی اور پیغمبر کو معجزہ نہ بھی دیا جاتا تب بھی اس نبی کی پیغمبرانہ زندگی ،صحیفہ و کتاب ہدایت کی موجودگی اور عقلی دلائل و براہین کی روشنی میں اس کی صداقت پر ایمان لانا از بس ضروری ہوتا اور اس کا انکار مذہب کی اصطلاح میں کفر و الحاد مانا جاتا ہے ۔تاہم یہ بھی ایک حقیقت تامہ ہے کہ آفتاب صبح سے زیادہ روشن عقلی و نقلی دلائل کے باوجود عوام کی فطرت اکثر و بیشتر حق و صداقت کے قبول کے لیے بھی دلائل سے زیادہ ایسے امور سے جلد متأثر ہوتی ہے جو عقل کو حیران اور دماغ کو مرعوب کر کے ان پر یہ ظاہر کر دے کہ دعویٔ نبوت کے ساتھ نبی کا یہ عمل بلا شبہ اللہ کی دی ہوئی ایسی طاقت رکھتا ہے جس کا مقابلہ انسانی طاقت سے بالا تر ہے اور اس کے مظاہرہ کے سامنے وہ عاجز و درماندہ ہے۔اور وہ یقین کر لیتے ہیں کہ بے شک و شبہ اس ہستی کو اللہ کی تائید حاصل ہے ۔اس لیے وہ جو کچھ کہہ رہا ہے اللہ کی طرف سے ہے ۔ پس اہل اسلام میں سے ہر خاص و عام کے لیے ضروری ہے کہ انبیاء و رسل سے جو معجزات ثبوت اور دلائل کے اعتبار سے قطعی اور یقینی ثابت ہو چکے ہیں ان پر ایمان لائیں ان کے وجود اور ان کی حقیقت کا اعتراف کریں ۔ اس لیے کہ ان میں سے کسی ایک کا بھی انکار درحقیقت اسلام سے انکار ہے ۔ یہ حقیقت بھی کبھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ کسی شخص سے صرف اس قسم کے خارق عادت عمل صادر ہونے کا نام معجزہ نہیں ہے ۔محض اس عمل کے بروئے کار لانے سے وہ نبی نہیں ہو سکتا۔اس لیے کہ نبی اور رسول کے لیے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ عقیدۂ توحید میں اعلیٰ ترین معیار پر پختگی کے ساتھ ساتھ اس کی تمام زندگی اس طرح آزمائش و امتحان کی کسوٹی پر رب العالمین کی طرف سے کسی جا چکی ہو کہ اس کا کوئی شعبۂ زندگی ناقص اور قابل اعتراض نہ ہو بلکہ اس کی تمام تر زندگی میں اخلاق کی بلندی ،گناہوں سے نفرت وعصمت ،صداقتِ گفتار اور کردار کا کمال پایا جاتا ہو ۔یہ سارے اصول و قواعد اور قوانین و ضوابط سید الانبیاء والمرسلین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر منتہی ہو گئے ۔ان کے بعد ان کا اطلاق تا قیامت کسی فرد پر نہیں ہو گا۔ ہم نے ابھی کہاکہ’’معجزہ‘‘درحقیقت نبی کا اپنا عمل نہیں ہوتا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کا ایسافعل ہوتا تھا جو نبی کے ہاتھوں ظاہر ہوتا اور معجزہ کہلاتا تھا۔اس لیے کہ نبی اور رسول بھی ایک انسان اور بشر ہی ہوتا تھا ۔اور کسی انسان کی قدرت میں یہ نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قوانین عام و خاص میں دخل اندازی یا در اندازی کر سکے ۔یہ تو اللہ ذوالجلال کی منشاء و رضاء پر موقوف ہے کہ وہ مناسب حال اور تقاضائے وقت کے مطابق چاہے تو اپنے کسی بھی صالح بندے کے ہاتھ پر ایسے فعل کا ظہور کر ادے جو اس کے قوانین فطرت کی عادتِ خاص کی (