کتاب: عقیدہ ایمان اور منہج اسلام - صفحہ 324
چھٹی اصل
کراماتِ اولیاء اللہ کی تصدیق
اہل السنۃ والجماعۃ اہل الحدیث کے سلف صالحین کے اُصول عقیدہ میں سے ایک اصل اولیاء اللہ کی کرامات کی تصدیق بھی ہے۔ اور کرامت کا معنی ہوتا ہے کہ :اللہ خالق السموات والارض اپنے بعض صالح ، موحد بندوں کے ہاتھوں پر خوارق عادت کوئی کام ان کے اکرام (اور اپنے دین کی نصرت) کے لیے جاری کردے۔[1] جیساکہ اس موضوع پر کتاب و سنت نے کچھ باتوں کی خبر دی ہے۔ چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ
[1] اسلامی عقائد میں کرامت اور معجزہ ایک ایسا موضوع ہے کہ جس کے بعض حساس پہلوؤں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملت میں درآنے والے شاطرانہ ذہن کے مالک کچھ لوگوں نے آج امت اسلامیہ کی ایک بہت بڑی تعداد کو گمراہ کر رکھا ہے ۔ سبائی نظریات کے حامل ان شاطر اور جاہل قسم کے جعلی مشائخ نے باقاعدہ ایک سازش کے تحت دین اسلام کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کرکے پوری ملت کو بھی دوحصوں میں بانٹ دیا ہے۔ انسانی اور جناتی شیطانوں کے آلہ کار ان ملاؤں نے ’’شریعت و طریقت ‘‘ کا نظریہ قائم کیا اور اپنے لیے ’’طریقت‘‘ کا راستہ اختیار کرکے ملت اسلامیہ کے کم علم اور بھولے بھالے لوگوں کی کثیر تعداد کو اپنے پیچھے لگا لیا ۔ کذب و افتراء کے حامل اس نظریۂ طریقت کو رسالت حقہ کے مقابلہ میں سچ ثابت کرنے کے لیے ’’جعلی کرامات‘‘ کا ڈھونگ رچایا جاتا رہا اور اس ضمن میں مشرکانہ نظریات پر مشتمل ایسی ایسی داستانیں تراشی گئیں کہ سننے اور قبول کرنے والوں کے نزدیک قرآن و سنت والی علوم و معارف سے بھرپور نہایت سچی اور سُچی شریعت مطہرہ …کہ جس پر عمل پیراہو کر خیر القرون کے خیر الامم نہایت قلیل مدت میں اپنے دور کی سپر پاورز (روم ، ایران ، مصر وچین اور ہندوستان) کو تہہ و بالا کرکے تمام بنی نوع انسان کے لیے اللہ کریم کی طرف سے عطا کردہ نہایت اعلیٰ و اکمل دستور حیات ، دین حنیف ، اسلام کو مکمل طور پر غالب کرنے میں اپنے رب کے ہاں سرخرو ہو گئے …کی کوئی حیثیت نہ رہ گئی ۔بلکہ کم و بیش ایک (